تقسیم بنگال پر ہندوکانگریس کے احتجاج نے مسلمانوں کو الگ جماعت بنانے پر مجبور کیا

0 minutes, 22 seconds Read
 قسط ۔نمبر۔13

ولیم میکنلےWilliam Mckinley امریکہ کے 25 ویں صدر تھے اُ ن کا دور صدارت1897 ء سے1901 ء تک رہا1901 ء امریکی آزادی کے 125 سال مکمل ہو ئے 6 ستمبر1901 ء صدر ولیم میکنلے نیویارک کے شہربفیلو کی ایک نمائش میں گئے جہاں لیون زولگوز نامی ایک انار کیسٹ اُنہیں گو لی ماردی ،ہسپتال پہنچا یا گیا 14 ستمبر وہ انفیکشن اور Gangrene کی وجہ سے وفات پا گئے یوں 1901 ء میں بیسویں صدی کے آغاز اور امریکی آزادی کی125 ویں سالگرہ قدامت پسند ی کے اعتبار سے کچھ منحوس ثابت ہوئی۔

صدر ولیم میکنلے کا دور حکومت امریکی ترقی ،خوشحالی اور استحکام کا دور تھا ،اِس دوران معیشت مضبوط ہوئی بین الا قوامی سطح پرامریکہ بڑی قوت بن کر ابھرا۔ مقتول صدر نے محصولات سے صنعتوںکو تحفظ دیا تھا سونے کی بنیاد پر کرنسی کے اصول کو نافذ کیا تھا 1898 ء کی اسپین امریکہ جنگ میں فتح حاصل کی تھی امریکہ کو وسعت دی تھی۔ اُنہوں نے خارجہ سطح پر چین کے ساتھ Open Door پالیسی کو متعارف کر وایا تھا تاکہ تمام ممالک کو تجارت کے برابر مواقع ملیں۔

ولیم میکنلے اگر قتل نہ ہوتے تو یقینا وہ دوسری مرتبہ بھی امریکہ کے صدر منتخب ہو تے۔ اُن کی موت سے امریکہ ایک اہم پالیسی ساز منصوبہ ساز سے محروم ہو گیا لیکن امریکہ کی ترقی جاری رہی۔ِن کے بعد تھوروڈ روزویلٹ Theodore Roosevelt صدر بننے ۔17 دسمبر1903 ء امریکہ ہی نہیں دنیا کی تاریخ کا ایک اہم ترین دن تھا،جب رائٹ برادرز نے انسان کی فضا میں اڑنے کی ہزاروں سالہ پرانی آرزو کو حقیقت میں بدل دیا۔ ولبر اور اورول رائٹ دو بھائیوں نے امریکہ شمالی کیرو لائنا کے علاقے Kitty Hawk کٹی ہاک میں اپنا ہو ائی جہاز کامیابی سے اڑیا۔ یہ دنیا کی پہلی کامیاب کنٹرولڈ اور انجن سے چلنے والی پرواز تھی۔ لکڑی کا بنا طیارہ جس میں 12 ہارس پاور کا انجن نصب تھا 12 سیکنڈ ز تک اڑا اور 120 فٹ فاصلہ طے کیا۔

اُس دن چار پروازیں ہوئیں جو 59 سیکنڈز تک جاری رہیں مجموعی طور پر 852 فٹ فاصلہ طے کیا۔ اسی دن جد ید ہوا بازی Aviation کی بنیاد پڑی۔ رائٹ برادران کا یہ طیارہ واشنگٹن ڈی سی کے نیشنل ایئراینڈ اسپیس میوزیم میں موجود ہے۔ اس پہلی پرواز کے بعد اگر چہ بر طانیہ، فرانس، اٹلی، اسپین، جاپان اور روس سبھی نے طیار ہ سازی کے میدان میں داخل ہو گئے لیکن امریکہ میں اس دن کے بعد سے ہر آنے والا دن طیار ہ سازی میں نئی کامیابیاں لے کر آیا۔ طیارے کی ایجاد کے صرف سات سال بعد امریکی بحریہ کے حکام کے ذہنوں میں یہ خیال آنے لگا کہ طیارہ بردار بحری جہا ز بنا یا جائے۔

1910 ء میںامریکی بحریہ انجینئروں نے ایسا طیارہ بردار بحری جہاز بنالیا،انجینئروں نے بحری جہاز USS Birmingham کے ڈیک پر تقریباً 25 میٹر لکڑی کا ایک پلیٹ فارم بنا یا۔ 14 نومبر1910 ء کو پائلٹ یو جین ایلی نے اپنے طیارے Curtiss Model D کے ساتھ بحری جہاز کے اس ڈیک سے پرواز کی مگر لینڈینگ پر اس کے پہیے پانی کو چھُو گئے یوں یوجین ایلی نے اپنا طیارہ ہموار ساحل پرکا میابی سے اتار لیا۔ اس کے تقریباً دو مہینے بعد پائلٹ یو جین ایلی نے 18 جنوری 1911 ء کو اپنا طیارہ نہ صرف USS Pennsylvania سے کامیابی سے اڑیا بلکہ کامیابی سے اس بحری جہاز پر لینڈنگ بھی کی۔

میرے خیا ل میں امریکہ اُسی دن بر طانیہ سے آگے نکلتے ہو ئے دنیا کی سپر پاور بن چکا تھا ۔ برصغیر سمیت ایشائی افریقی ممالک ہیں غیر معیاری گوشت کے استعمال سے سالانہ ہزاروں افراد ہلاک ہو تے ہیں۔ امریکہ میں ایسے مسائل پر عوامی احتجاج کے بعد 1906 ء میں امریکی کانگریس نے Meat Inspection Act منظور کیا۔ اس قانون کے تحت لازمی قرار پایا کہ گوشت فیکٹریاں مذبحہ خانوں میں ذبح سے پہلے اور بعد میں تمام جانوروں کامعائنہ کیا جا ئے۔ اسی قانون سے فوڈ سیکورٹی کے جدید نظام کی بنیاد پڑی۔ ہر سال 8 مارچ کو آج پوری دنیا میں عالمی یوم خواتین جوش و خروش سے منا یا جا تا ہے اس کا پس منظر یہ ہے 8 مارچ 1908 ء کو نیویارک میں15000 خواتین نے فیکٹریوں کے اوقات کار میں کمی، تنخواہوں میں اضافے اور خواتین کو ووٹ کا حق دلوانے کے لئے مظاہرہ کیا تھا جس پر پولیس نے بدترین تشدد کیا۔ اگلے سال 8 مارچ 1909 ء کو امریکہ میں پہلا یوم خواتین منا یا گیا ۔ امریکی بیسویںصدی کے آغاز میں اعلیٰ معیار زندگی کی علامت گھوڑا گاڑیوں بگیوںسے آگے نکل کر موٹرکار استعمال کر نے لگے تھے مگر گاڑیوں کی قیمتیں صرف امیرلوگ ہی ادا کر سکتے تھے۔

ان دنوں کا کی قیمت 2000 سے3000 ڈالر تھی ۔اکتوبر1908 ء میں ہنری فورڈ نے ماڈل ٹی ModelT کار متعارف کر ائی جس کی قیمت صرف 850 ڈالر تھی۔ ہنری فورڈ نے اس گاڑی کی پیداوار بھی تیز کر دی۔ اُس وقت ایک کار 12 گھنٹے میں بنتی تھی، ہنری فورڈ کی کمپنی نے 93 منٹ فی کار تیار کر نا شروع کی اس کی وجہ سے نہ صرف کاروں کی صنعت کو فروغ حاصل ہوا بلکہ عام اور متوسط طبقے کے افراد کا معیار زندگی بھی بلند ہوا۔ سب سے اہم یہ کہ امریکہ میں سڑکوں اور ٹریفک کے نظام میں بھی انقلابی اصلاحات ہو ئیں۔1913 ء امریکہ میں آئینی جمہوری ارتقا کے اعتبار سے اہم سال تھا۔ اس سال امریکہ کے آئین میں 16 ویں اور17 ویں ترامیم ہو ئیں 16 ترمیم نے آئینی طور پر کا نگریس کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ براہ راست عوام کی آمدنیوں پر ٹیکس Income Tax لگا سکے۔

اس سے قبل حکومت کے پاس آمدنی کے اعتبار سے صرف Tariffs کا شعبہ تھا یعنی درآمدی ڈیوٹی سے آمدنی حاصل ہو تی تھی۔ انکم ٹیکس سے حکومت کی آمدنی بڑھ گئی۔ عوامی فلاح و بہود اور ملکی دفاع کے لیے رقوم حاصل ہو نے لگیں۔ 17 ویں آئینی ترمیم سینیٹروںکے انتخاب سے متعلق تھی۔ پہلے سینیٹر ز کا انتخاب ریاستی اسمبلیاں کر تی تھیں اِن انتخابات میں کرپشن اور رشوت ستانی کے الزامات عام سی بات تھی۔ 17 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سینیٹرز کومنتخب کر نے کا اختیار عوام کو دے دیا گیا۔

اِن دونوں ترامیم سے امریکہ جمہوری ،مالیاتی اقتصادی اور دفاعی طور پر مضبوط و مستحکم ہوا ۔15 اگست 1914 ء امریکہ کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے جب پانامہ نہر Panama Canal کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔ یہ امریکی انجینئرنگ کا عظیم کا رنامہ تھا جس کے ذریعے بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کو آپس میں جوڑ دیا گیا تھا۔ اس نے جنوبی امریکہ کے گرد طویل اور پُر خطر سفر کو ختم کر دیا اور بین الاقوامی بحری نقل عمل کو ایک اہم اور مختصر راستہ فراہم کیا۔ فرانسیسوں کی ناکا می کے بعد 1904 ء میں امریکیوں نے اس منصوبے پر دس برس تک کام کیا تھا۔

 1914 ء دنیا میں سب سے اہم واقعہ پہلی جنگ عظیم تھا۔ یہ جنگ ایک عالمی تنازعہ تھا جس میں بنیادی طور پر دنیا کے طاقتورممالک دو گرپوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کے خلاف لڑے۔ اتحادی افواج میں بر طانیہ ، فرانس ، روس اور بعد میں امریکہ شامل ہوا جب کہ اس کے مقابل مرکزی طاقتوں کاگروپ تھا جس میں جرمنی آسٹریا ہنگری اور سلطنت عثمانیہ ( ترکیہ) شامل تھے۔ جنگ عظیم کا آغاز 1914 ء میں آسڑیا کے آرک ڈیوک فرانز فرڈینینڈ کے قتل سے ہوا۔ اس جنگ کا انداز اُس وقت کے اعتبار سے جدید اور تباہ کن تھا۔

یہ جنگ اپنی خندقوں نئے ہتھیاروں یعنی ٹینکوں ، زہریلی گیسوں ہوائی جہازوں کے ساتھ لڑی گئی۔ جنگ کا خاتمہ 1918 ء میںہوا،جس میں اتحادیوں کو فتح حاصل ہوئی۔1919 ء میں فرانس کے ورسائی محل میں معاہدہ ورسائی Treaty of Versailles پر دستخط ہو ئے ۔ جنگ کے نتیجے میں چار بڑی سلطنتوں ، جرمن سلطنت، روسی سلطنت ، سلطنتِ عثمانیہ اور ہنگری کی بادشاہت کا خاتمہ ہو گیا۔ اس جنگ میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد ہلاک ہو ئے، اس سے کہیں زیادہ زخمی اور معذور ہو ئے۔ جنگ میں بر طانیہ کی سب سے بڑی اور اہم نو آبادی ہندوستان بھی متاثرا ہوا۔

ہندستانی فوجیوں نے ہزاروں کی تعداد میں اپنی جانیں قر بان کیں ، سلطنت عثمانیہ کو ہندوستان سمیت پوری اسلامی دنیا میں خلافت ِعثمانیہ کہا جا تا تھا اس کے خا تمے پر ہندوستان میں تحریک خلافت چلی۔ اس جنگ کے دوران ہی روس کی زار سلطنت کے خلاف کارل مارکس کے نظریات کی بنیاد پر لینن اور اسٹالن نے 17 اکتوبر 1917 ء کو کیمونسٹ انقلاب برپا کیا اور روس کو جنگ سے باہر نکال لیا۔ 1917 ہی میں امریکہ تازہ دم اور دنیا کی طاقتور ملک کی حیثیت سے جنگ میں شامل ہوا۔ امریکہ جنگ عظیم اوّل میں بہت سوچ سمجھ کر اُس وقت داخل ہوا جب 1917 ء میںروس اتحاد سے نکل گیا تھا اور جنگ کے دونوں فریقین تھک کے نڈھال ہو رہے تھے۔

امریکہ کو سات سمندر پار ایک محفوظ ترقی یافتہ جمہوری ملک ، آزادانہ تجارت کا مرکز سمجھ لیا گیا تھا۔ دنیا کا دولت مند طبقہ اور ذہین و فطین افراد جنگ کے دوراں بہت بڑی تعداد میں امریکہ منتقل ہو گئے تھے۔ جنگ میں شامل ہونے کی وجوہات صدر ووڈرو ولسن نے یوں بیان کیں، جرمنی کی آبدوز نے امریکی تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانا شروع کیا ، بر طانوی انٹیلی جنس نے خفیہ ٹیلی گرام پیغام پکڑا جس میں میکسیکو کو امریکہ پر حملہ کر نے کی صورت میں اپنے اتحاد میں شامل کر نے کی پیشکش کی گئی تھی، صدر ولسن نے یہ موقف اختیار کیا کہ دنیا کو جمہوریت کے لیے محفوظ بنانا ضروری ہے۔ صدر ولسن کی درخوست پر امریکی کانگریس نے 6 اپریل 1917 ء کوجرمنی کے خلاف باقاعدہ اعلان جنگ کر دیا ۔1918-19 ء کو دنیا بھر میںا نفلوئنزا کی خطرناک وبائی بیماری پھوٹی جس کو میڈیکل سائنس میںH1N1 کہا گیا اس بیماری سے پوری دنیا میں پانچ کروڑ سے زیادہ افراد ہلا ک ہوئے۔ امریکہ میں اموات کی تعداد 6 لاکھ 75 ہزار سے زیادہ تھی۔16 جنوری کو امریکہ میں شراب پر پابندی کے لیے آئین میں Prohibition کے عنوان سے ویں 18ترمیم کی گئی۔

یہ انٹی سیلون لیگ اور خواتین کی تحریکیوں کا نتیجہ تھا اس ترمیم کے تحت ملک میں شراب پینے کی غرص سے تیاری فروخت اور نقل و عمل پر پابندی عائد کر دی گئی۔ ترمیم کے Volstead act  وولسٹڈ ایکٹ کے تحت تمام مشروبات جن میں0.5 یا اس سے زیادہ الکوحل ہو اُن کو ممنوع قراردیا گیا۔اگست1920 ء میں مریکہ کے آئین میں 19 ترمیم کے ذریعے صنفی بنیاد پر ووٹ ڈالنے کے حق کو ختم کر دیاگیا۔ جس سے امریکی خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق مل گیا،یعنی اب امریکی خواتین جو کل آبادی کا نصف تھیں وہ بھی جمہوری عمل کا متحرک حصہ بن گئیں ،جنگ عظیم اوّل کے دوران تارکین کی بڑی تعداد امریکہ آئی جنگ کے بعد امریکہ تو خوشحال تھا مگر دنیا میں بد حالی تھی اس لیے امریکہ میں تارکین وطن کی آمد میں اضافہ ہوا۔ 1921 ء سے اس مسئلے پر بحث ہو ئی 1924 ء Johnson-Reed Act جسے1924 ء کا امیگریشن ایکٹ بھی کہا گیا نافذ ہوا۔

امیگریشن کا کوٹہ سسٹم کو مسترد کیا گیا اس کا مقصد مخصوص نسلوں اور قومیتوں کے لوگوں کو امریکہ آنے سے روکنا تھا۔ اس قانون کے تحت تمام ایشیائی باشندوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی۔ اس سے خاص طور پر جا پا نی اور چینی متاثر ہوئے۔ امریکہ کا موقف تھا کہ ملک کو نسلی ساخت کی تبدیلی سے محفوظ رکھا جا ئے ۔Harlem Renaissance  ہارلم نشاۃ ثانیہ فنی فکری تحریک 1922 ء میں اپنے عروج پر رہی جس نے افریقی امریکی New Negro شناخت کو جنم دیا۔ امریکہ میں سیاہ فاموں نے ادبی فنی فکری سر گرمیوں کی بنیاد پر اپنی خوداری اور نسلی تفاخر کو زندہ کیا اس تحریک نے ادب فن اور مو سیقی سے سماجی تعصبات کو چیلنج کیا اور مستقبل کی شہری انسانی حقوق کی تحریکوں اور جد وجہد کے لیے راستہ ہموار کیا۔ کلاڈ میکے ، لینگسٹن ،ہیوز اور کاؤنٹی کلن جیسے شاعروں نے افریقی امریکی شناخت کو عالمی سطح پر روشناس کرایا،ہم دیکھتے ہیں کہ بر طانیہ سے 1776 ء میں آزادی لینے والے امریکہ میں جمہوریت فکری آزادی تھی مفکرین دانشوروں محققین شعرا اور ادیبوں نے انسانی فکر اور احساس کی بنیاد پر انسانی عظمت اور فکر ی آزادی کو فروغ دیا۔ 1925 میں اس حوالے سے امریکہ کی عدالت میں چلنے والے مقدمہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔

اُس زمانے میں اس مقدمے کو اخبارات نے Monky Trial یعنی بندر مقدمے کا نام دیا۔ یہ مقدمہ قدیم روایات اور جدید خیالات کے درمیان شدید تضادات کے ٹکراؤ کو ظاہر کر تا ہے۔ مقدمے کا عنوان مذہب بمقابلہ سائنس ،یا ،بنیاد پرستی بمقابلہ جدیدت ہو گا مقدمے کا مرکزی تنازعہ بائبل کی لفظی تشریح ( Fundamentalism ) بنیاد پرستی اور ڈارون کے نظریہ ارتقا(Evolution ) کے درمیان علمی ،تحقیقی، تعلیمی ، معاشرتی بنیادوں پر ٹکراؤ تھا۔ ریاست ٹینیسی کے بٹلرایکٹ نے سرکاری اسکولوں میں نظریہ انسانی ارتقا پڑھانے پر پابندی عائد کر دی تھی جسے سائنسدانوں، روشن خیال دانشوروں نے تعلیمی آزادی پر حملہ قرار دیا تھا۔ اس مقدمہ کو اس زاویہ ء نظر سے بھی بیان کیا گیا کہ دیہاتی روایت پسندی بمقابلہ شہری روشن خیالی۔ یہ ایک عدالتی مقدمہ ہی نہیں تھا بلکہ فکری اعتبار سے دو طرح کی طرز زندگی کا ٹکراؤ یا تضاد بھی تھا۔ ایک جانب دیہی قدامت پرست امریکہ تھا تودوسری جانب شہری روشن خیال اور ترقی پسند امریکہ تھا۔ شہری امریکی سائنسی ترقی اور سیکولر خیالات کے حامی تھے اور دیہی امریکی مذ ہبی اقدار کو بچا نا چاہتے تھے۔ اس مقدمے میں بڑے لیڈر آمنے سامنے تھے۔

تھیولیم جیننگز برائن (استغاثہ) نے مذہبی بنیاد پرستوں کی نمانیدگی کی اور (دفاع) میں کلیرنس ڈیرو نے سائنسی سوچ اور فکری آزادی کا دفاع کیا۔ مقدمے کے دوران عدالت نے ڈیرو اور برائن کو گواہان کے طور پر بلوا کر بابل کے حوالے سے ایسے سوالات کئے ،جن سے برائن کا موقف کمزور پڑ گیا۔ یہ پہلا مقد مہ تھا جسے ریڈیو پر براہ راست پیش کیا گیا ، اخبارات نے اسے منکی ٹرائل کا نام دیا ،برائن کے کمزور پڑنے پر عوامی سطح پر اُن کا مذاق اڑایا گیا۔ مقدمے کے فیصلے میں جان سکوپس کو مجرم قراردیا گیا اور 100 ڈالر جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ اگر چہ قانو نی طور پر بنیاد پرست یہ مقدمہ جیت گئے مگر معاشرتی سماجی سطح پر اخلاقی اور فکری طور پر جدیدیت پسندوں کو کامیابی حاصل ہو ئی۔ ٹرائل نے یہ بحث چھیڑدی کہ کیا مذہب کو تعلیم اورسائنس پر اثرانداز ہو نا چاہیے؟۔ اگرچہ میسور کے ٹیپو سلطان نے بارود سے بنا راکٹ1799 ء میں اپنی شہادت سے چند برس پہلے ایجاد کیا تھا مگر 1926 ء میں دنیا کا پہلا Liquid-fueled rocket معدنی ایندھن سے چلنے والا راکٹ 16 مارچ1926 ء کو Dr Robert H. Goddard فزکس کے پرو فیسر ڈاکٹر رابرٹ ایچ گادارد نے ایجاد کیا۔ اس کا عملی مظاہر ہ میسا چوسٹس کے شہر آبرن میں کیا اور جدید راکٹ سازی کی بنیاد رکھ دی۔ اس راکٹ میں اُنہوں نے مائع ایندھن آکسیجن اور گیسولین (پیٹرول) کا ستعمال کیا تھا۔ یہ راکٹ صرف 2.5 سیکنڈز پرواز کرسکا، 41 فٹ کی بلندی تک گیا، اس کی اوسط رفتار 60 میل فی گھنٹہ تھی مگر یہ جدید راکٹ سازی کی بنیاد بنا۔

بر طانیہ کی عظیم ملکہ وکٹوریہ کی وفات کے بعد 1901 ء سے 1910 ء تک بر طانیہ کے بادشاہ ایڈ ورڈvii dward رہے۔ اِن کے عہد میں 1904 ء میں بر طانیہ اعظمیٰ اور جمہوریہ فرانس کے درمیان مصر مراکش کے تنازعات پر باہمی معاملات طے پائے اور عہد نامے پر دستخط ہو ئے۔ بر طانیہ کے بادشاہ ایڈورڈ vii اور وزیر اعظم ہنری کمبل بینر مین Henry Campbell Bannerman کے دور حکومت میں 10 فروری 1906 ء برطانیہ نے ایس ایم ایس ڈریڈ ناٹ HMS Dreadnoughtkw نامی جدید اور طاقتور بحری جہاز کو سمندر میں اتارا۔ یہ بحری قوت کے لحاظ سے اُس وقت کا ایسا جہاز تھا جس کے بعد دنیا بھرکی نیوی کے تمام بحری جہاز فرسودہ اور بیکار ہو گئے۔ اس کو ایڈمرل سر جان فشر نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس پر 12 انچ دہانے کی 10 توپیںنصب تھیں جو طویل فاصلے پر درست نشانہ لگا تی تھیں۔ اس میںا سٹیم ٹربائن انجن تھے۔ یہ جہاز بھاری ہونے کے باوجود 21 ناٹس کی رفتارکے ساتھ دنیا کاسب سے تیز بحری جنگی جہاز تھا۔

اس جہاز کو ایک سال کی ریکارڈ مدت میں بنایا گیا تھا۔ اس جہاز نے بحری جہازوں کی ٹیکنالوجی کی تعریف بدل کر رکھ دی تھی۔ ڈریڈناٹ نامی جہازوں کی ایک نئی کلاس کی بنیاد رکھی تھی۔ اس جہاز نے پہلی جنگ، عظیم تک سمندروں میںراج کیا۔ جہاز بنانے پر 1783883 پاؤند سٹرلنگ لاگت آئی تھی جو آج کی قیمت کے اعتبار سے22 کروڑ پونڈ بنتے ہیں۔ 1908 ء میں بر طانوی حکومت نے 70 سال کی عمر سے زیادہ افراد کے لیے اولڈایج پینشن کو رائج کیا۔ اس کے لیے شرط تھی کہ ایسے افراد جوگزشتہ 20 برسوں سے بر طانیہ میں مقیم ہوں وہ حق دار ہوں گے۔ ِاس پینشن کی رقم 5 شلنگ ہفتہ وار تھی یہ سماجی اصلاحات کا اہم سنگ میل تھا۔ شہنشاہ ایڈورڈ ہفتم کے بعد 1910 ء میںجارج پنجم بطور شہنشاہ برطانیہ عظمیٰ اقتدار میں آئے۔ برطانیہ 4 اگست 1914 ء کو اُس وقت پہلی جنگ میں شامل ہوا جب جر منی نے بیلجیم پر حملہ کر دیا تھا۔ یہ برطانیہ کے لیے Total War ،،بھر پور جنگ میں شمولیت تھی۔ بر طانیہ نے اپنی عالمی برطانوی سلطنت ، اپنی افرادی قوت پوری معیشت سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا۔ جنگ میں شرکت کی وجہ غیر جانبدار بیلجیم کے خلاف جرمنی کی جارحیت تھی۔

برطانیہ نے فرانس کے ساتھ کئے گئے اپنے معاہدے کی پاسداری بھی کی۔ بر طانیوی اعلان جنگ سے تمام برطا نوی نو آبادیات خصوصاً ہندوستان، کینیڈا ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سبھی جنگ میں شامل ہو ئے گئے۔ لاکھوں ہندوستانیوں نے بر طانیہ کے لیے جنگ عظیم اوّل میں شرکت کی۔ جنگ میں فتح حاصل کر نے میں بر طانوی نیوی نے اہم کردار ادا کیا۔ پہلی جنگ عظیم سے بر طانوی سماج میں خواتین کے اعتبارسے تبدیلیاں رونما ہو ئیں تقریباً تمام مرد پہلی عالمی جنگ کے محازوں پر لڑنے چلے گئے۔ خواتین نے فیکٹریوں دفاتر دیگر اداروں میں کام سنبھال لیا۔ معاشرے میں اِنہوں نے متحرک کردار ادا کیا۔ بعد میں خواتین کو ووٹ کا حق ملا۔ جنگ عظیم اوّل میں بر طانوی عالمی سلطنت کے 8 لاکھ 50 ہزار فوجی ہلاک ہو ئے۔ جنگ عظیم اوّل میں تقریباً 15 لاکھ ہندوستانی سپاہیوں نے شرکت کی۔ تقریباً80 ہزار ہلاک ہو ئے تقریباً اتنے ہی زخمی ہو ئے۔ اگر چہ جنگ بر طانیہ جیت گیا مگر حقیقت میں جنگ سے بر طانیہ کمزور ہوا۔ اس کی عالمی سپر پاور کی حیثیت جانے لگی۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران برطانیہ کے بادشاہ جارج پنجم رہے۔ وزرا عظم میں H.H Asquitk ایچ ایچ اسکیوک اورDaviad Lloyd Gearge ڈیوڈ جارج شامل تھے ۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد 1919 ء میں Nancy Astor امریکی نژاد نینسی ایسٹر بر طانوی ہاؤس آف کامنز میں رکن بننے والی پہلی خاتون بن گئیں۔ وہ 1945 ء تک پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہو تی رہیں۔

انہوں نے خواتین کے حقوق، تعلیم اور بچوں کی بہبود کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ یہ برطانیہ میں مردوںکی با لا دستی کا دور تھا اس لیے نینسی کو اپنی جد و جہد میں کئی رکاوٹوں کا سامنا کر نا پڑا۔1921 ء اینگلو،آئریش معاہدہ Anglo-Irsh Treaty آئر لینڈ کی آزادی کی جنگ کے خاتمے بعد ملک کی تقسیم کی بنیاد پر یہ معاہدہ ہوا جس کے تحت آئر لینڈ کے 26 جنوبی اضلاع کو فری اسٹیٹ کے طور پر خودمختاری دی گئی لیکن یہ سلطنت ِبر طانیہ کا حصہ ہی رہا ۔ بر طانیہ میں 3 مئی 1926 ء سے12 مئی 1926 ء تک عام ہڑتال رہی یہ بر طانیہ کی تاریخ کی ایک بڑی ہڑتال تھی جس کی وجہ سے نو دن تک پوار بر طانیہ مفلو ج ہو کر رہ گیا۔ ہڑتال کی بنیادی وجوہات یہ تھیں کہ کو ئلے کی کانوں کے مالکان نے مزدورں کی اجرت میں 13 فیصد کمی اور کام کے دوارنیے کو 7 گھنٹے سے بڑھا کر 8 گھنٹے کر دیا تھا کیونکہ کانوں کے مالکان کو دی جانے والی حکو متی سبسیڈی ختم کر دی گئی تھی۔

ٹریڈ یونین کانگریس نے کانکوں کی حمایت میں اعلان کیا جس کا نعرہ تھا ،،نہ تنخوا ہ میں ایک پائی کم نہ دن میں ایک منٹ زیادہ ،، بسوں ٹرینوں اور بحری جہازوں کے عملے کی ہڑتال سے پورا نظام مفلوج ہو گیا۔ یہاںتک کہ پرنٹنگ پریس بند ہو نے پر اخبارات کی اشاعت رک گئی۔ حکومت کا ردعمل بھی سخت ہوا ،ہنگامی حالات نافذ کر کے رضاکار اور فوج طلب کر لی گئی۔ ملک بھر میں جھڑپیں ہو ئیں۔ تقریباً9000 افراد کو گرفتار کیا گیا 12 مئی کو ٹریڈ یونین کانگریس نے مطالبات کی منظوری کے بغیر اچانک ہرتال ختم کر نے کا اعلان کر دیا۔ کارکنوں نے اسے دھوکہ قرار دیا ، کانکوں نے اکیلے ہی سات ماہ تک جد وجہد جاری رکھی بالآخر نومبر میں اُنہیں کم اجرت اور طویل اوقات کار پر واپس کام کر نا پڑا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مستقبل میں کارکنوں کا جھکاؤ لیبر پارٹی کی طرف بڑھ گیا۔ 1901 ء سے1926 ء کے پچیس برسوں میںجہا ں امریکہ اور بر طانیہ کی صورتحال ہمارے سامنے آئی وہاں بر ٹش انڈیا پر خصوصاً بر طانوی، سلطنت و حکومت کے اعتبار زیادہ اثرات مر تب ہو ئے ،ملکہ وکٹوریہ کا عہد ختم ہو ا، 1903 ء میں ہند وستان میں بیک وقت دو لارڈ ز آگئے ایک پہلے سے موجود وائسراے ،گورنرجنرل لارڈ کرزن تھے جب کہ دوسرے لارڈ کچنرLord Kitchener برطانوی ہندوستانی فوج کے کمانڈر انچیف بن کر 1903 ء میں ہندوستان آ ئے۔

کمانڈر انچیف نے آتے ہی فوجی تنظیم نو کی ، فوج میں بنیادی تبدیلیاں اور اصلاحات کیں کمانڈ ر انچیف کچنر نے فوج کے پرانے صوبائی ، علاقائی نظام کو ختم کرکے ایک مرکزی کمان کے ما تحت کر دیا۔ رجمنٹو ںکے نام اور نمبرتبدیل کر دیئے تاکہ علاقائی شناخت ختم ہو جا ئے۔ ایک متحدہ انڈین آرمی بناد ی دوہری کمان کا نظام بھی ختم کیا کمانڈر انچیف ملٹری ڈپارٹمنٹ کے درمیان اختیارات تقسیم تھے نئے کمانڈر انچیف نے تمام اختیارات خود سنبھال لیئے۔ لارڈکچنر کا مقاصد فوجی نقل و حرکت ، تربیت اور جد ید ہتھیاروں کر فراہمی کو تیز کرنا تھا یہ اصلاحات اس لیے تھیں کہ کسی بھی بڑی جنگ کے لیے فوج ہمیشہ فوری تیار ی کی پوزیشن میں رہے۔ نئے کمانڈر انچیف کی اصلا حات اور تبدیلیوں کو گورنرجنرل کرزن نے پسند نہیں کیا۔ اُن کے لارڈ کچنر سے اختلافات شروع ہو ئے۔ آخر لارڈ کرزن نے استعفٰی دے دیا ۔ 1905 ء کو حکومت نے بہت بڑی آبادی بڑے رقبے کے صوبے بنگال کو تقسیم کر دیا،یہ تقسیم انتظامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہو ئے کی گئی تھی۔

صوبے کو مغربی بنگال اور مشرقی بنگال میں تقسیم کر کے دو صوبے بنا دیئے گئے۔ اس سے مشرقی بنگال جہاں مسلم آبادی کی اکثریت تھی اُس کو فائد ہ ہوا۔ مشرقی بنگال میں نئے صوبائی دارالحکو مت ڈھاکہ کی بنیاد پر ملازمتوں اور دیگر معاشی اقتصادی مواقع پیدا ہوئے تھے۔ حکومتی اقدام پر آل انڈیا نیشنل کانگریس نے شدید احتجاج کیا، احتجاج اس لیے تھا کہ مغربی بنگال کے دارالحکومت کلکتہ کے دولت مند ہندوں کو اس تقسیم سے نقصان تھا۔ اس مخالفت اور احتجاج سے مسلمانوںکو احساس ہوا کہ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے الگ سیاسی جماعت بنا ئیں۔

30 دسمبر1906 ء ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا ، اس اجلا س کی نواب وقارالملک نے کی، مسلم لیگ کے قیام میں کلیدی کردار نواب سیلم اللہ خان ، نواب وقار الملک اور سر آغا خان نے ادا کیا ، 12 دسمبر 1911 ء کو بر طانوی حکومت نے شدید ہندواحتجاج اور سودیشی تحریک کے دباؤ میں آکر اپنے1905 ء کے تقیسم بنگال کے فیصلے کو واپس لے لیا۔ ہندوستا ن کے مسلمان اس فیصلے سے بہت مایوس ہو ئے ، میرے خیال میں 1911ء تک یورپی ممالک کے درمیان ایسے حالات بن رہے تھے کہ یہ امکان تھا کہ جلد بر طانیہ کو ئی جنگ شروع کر دے گا، اس لیے انگریز سرکارنے پہلے ہی ہندو اکثریت کو قابو میں کر لیا ، تنسیخ تقسیم بنگال سے دو برس قبل Morley Minto Refarms مارلے منٹو اصلاحات ،انڈین کونسلز ایکٹ 1909 ء متعارف کیا گیا۔ اِن اصلاحات کا مقصد ہندوستان میںبرطانوی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے ہندوستانیوں کو قانون سازکو نسلوں میں شامل کر نا تھا۔ اصلاحات میںقانون سازکونسلوں کے اراکین کی تعداد میں اضافہ کر نا بھی شامل تھا تاکہ سیاسی جماعتیں مطمئن ہوں۔ جداگانہ انتخاب کا مطالبہ ہندوستان کے مسلمان شروع ہی سے کرتے آئے تھے ، کیونکہ وہ ہندوستان جیسے بڑے ملک کی دوسری اکثریت تھے مارلے منٹو اصلاحات میں اس مطالبے کو بھی تسلیم کر لیا گیا۔ جس کے مطابق انتخابات میں مسلمان ، مسلمان نمائندے کو اور ہندو ، ہند امیدوار کو ہی ووٹ ڈال سکتے تھے۔

مرکزی قانون ساز کو نسل کے ارکان کی تعداد 16 سے بڑھا کر 60 کر دی گئی اس طرح صوبائی کونسلوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ،اِن اصلاحات کے نتیجے میں پہلی بارکسی ہندوستانی کو وائسرائے کی ایگزیگٹو کو نسل کا رکن بنا یا گیا ، ستیندر پی سہنا پہلے ہندوستانی تھے جو وائسرائے کی ایگزیگٹو کو نسل کے رکن بنے ،کونسلوں کے اختیارات میں بھی اضافہ کیا گیا۔ کونسل کے اراکین کو بجٹ پر بحث کر نے ،قراردادیں پیش کر نے اور ضمنی سوالات پو چھنے کا حق دیا گیا ، یہ بر طانوی دور حکومت میں مراحلہ وار جمہوریت کومتعارف کر نے کا ایک اور قدم تھا۔

Similar Posts