جنگ بندی کے باوجود لبنان پر اسرائیلی حملے، 14 افراد لقمہ اجل بن گئے

0 minutes, 0 seconds Read

جنگ بندی کے دعووں کے باوجود جنوبی لبنان ایک بار پھر اسرائیلی فضائی حملوں کی زد میں آ گیا، جہاں اتوار کے روز ہونے والی بمباری میں کم از کم 14 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔

لبنان کی وزارت صحت اور سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اتوار کے روز جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں دو بچے اور دو خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ 37 افراد زخمی ہوئے جن میں تین خواتین شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی علاقوں میں یارون اور بنت جبیل کے درمیان گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا اور کئی مقامات پر مسماری کی کارروائیاں کیں۔

صیدا (ٹائر) ضلع میں اسرائیلی طیاروں نے برج قلاویہ پر حملہ کیا، جبکہ منصوری اور بیت الصیاد کے علاقوں کی جانب فائرنگ بھی کی گئی۔

نبطیہ ضلع میں کفر تبنیت کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ ارنون اور علی الطاہر کے جنگلاتی علاقے پر توپخانے سے گولہ باری کی گئی۔ اسی ضلع کے علاقے زوطر الشرقیہ میں بھی اسرائیلی جنگی طیاروں نے حملے کیے، جہاں ایک مسجد اور مذہبی ہال کو تباہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

بنت جبیل کے علاقے میں بیت یہون کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ برج قلاویہ پر تین، کفرہ پر ایک اور جبل البطم اور صدیقین کے درمیان واقع علاقے پر بھی حملے کیے گئے۔

یاد رہے کہ 2 مارچ کو حزب اللہ کی جانب سے سرحد پار حملے کے بعد اسرائیل نے لبنان پر فضائی حملوں اور جنوبی علاقوں میں زمینی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس کے بعد سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے، خصوصاً 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی کارروائیوں کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔

لبنانی حکام کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 2500 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

16 اپریل کو 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اسرائیل کی جانب سے اس کی متعدد بار خلاف ورزیاں کی گئیں۔

دوسری جانب جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور لبنان نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع پر اتفاق کیا ہے۔

Similar Posts