ترجمان کے مطابق واقعے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ مقام کا معائنہ کیا گیا اور نظام کو دوبارہ فعال بنایا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی گئی ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں کے-الیکٹرک کے کسی ملازم کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور عینی شاہدین کے مطابق ایک نجی کار اور ایک پک اپ گاڑی، جن پر ادارے کی کوئی شناخت موجود نہیں تھی، مبینہ طور پر اس واردات میں استعمال ہوئیں۔
کے-الیکٹرک حکام کے مطابق ادارہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ محتاط رہیں اور کسی بھی غیر مجاز فرد کو بجلی کے انفراسٹرکچر کے قریب نہ آنے دیں، کیونکہ اس طرح کی مداخلت خطرناک حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔
کے-الیکٹرک کی جانب سے ٹیم نے گلشنِ اقبال بلاک 13 ڈی میں مبینہ چوری کے واقعے کی جگہ کا معائنہ کر لیا گیا ہے: ترجمان کے-الیکٹرک
ابتدائی تحقیقات کے مطابق کے-الیکٹرک کے کسی بھی ملازم کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے: ترجمان کے-الیکٹرک
سی سی ٹی وی فوٹیج اور عینی شاہدین کے بیانات سے…
— Imran Rana, Spokesperson, K-Electric (@imranrana21) April 26, 2026
یاد رہے کہ گزشتہ روز گلشن اقبال میں رہائشی اپارٹمنٹ میں ڈکیتی کی انوکھی واردات کے دوران ملزمان کے الیکٹرک کے سب اسٹیشن سے بجلی کی تاریں اوردیگرقیمتی سامان چوری کرنے فرار ہوگئے تھے۔
مسلح سمیت 6 ملزمان کمپنی کا یونیفارم، سیفٹی ہیلمنٹ اورجیکٹس پہن کرواردات کیلئے آئے تھے ملزمان نے خود کوکے الیکٹرک کے ملازمین ظاہر کیا۔
ملزمان نے رہائشی عمارت کے چوکیدار اوراس کے بیٹے کورسیوں سے باندھ کر تشدد کا نشانہ بھی بنایا پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ واردات میں استعمال کیا جانے والا ٹرک ڈیفنس تھانے کی حدود سے چوری کیا گیا تھا۔
پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی تلاش شروع کردی ۔۔تفصیلات کے مطابق اتوارکی صبح گلشن اقبال تھانےکےعلاقےگلشن اقبال بلاک 13 ای گوہرٹاورزرہائشی اپارٹمنٹ میں ڈکیتی کی انوکھی واردات کے دوران ملزمان کے الیکٹرک کے سب اسٹیشن سے بجلی کی تاریں اوردیگرقیمتی سامان چوری کرنے فرارہوگئے،ملزمان منی ٹرک اورگاڑی میں واردات کے لیے پہنچے تھے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق مسلح سمیت 6 ملزمان کمپنی کا یونیفارم، سیفٹی ہیلمنٹ اورجیکٹس پہن کرواردات کیلئے آئے تھے ملزمان نے خود کوکے الیکٹرک کے ملازمین ظاہر کیا،علاقہ مکینوں کے مطابق ملزمان نے رہائشی عمارت کے چوکیدار اوراس کے بیٹے کورسیوں سے باندھ کر تشدد کا نشانہ بھی بنایا،شہری کی جانب سے ویڈیوبنانے پرملزمان سامان لوٹ کرفرارہوگئے۔
واردات کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دیگر تفصیلات حاصل کرلیں ایس ایچ اوگلشن اقبال سعود نے ایکسپریس کو بتایا کہ رہائشی اپارٹمنٹ میں واردات اتوارکی صبح 7 بجے سے 8 بجے تک ایک گھنٹے تک انجام دی گئی،واردات کے دوران ملزمان بجلی کی تانبے کی تاریں،ٹرانسفامربشنگ برائے ایل ٹی پینل ، بسبار، بریکراوردیگر سامان لوٹ کر فرار ہوئے۔
انھوں نے بتایا کہ پولیس کوواردات کی اطلاع رہائشی اپارٹمبٹ کی یونین کے صدر شرافت علی کی جانب سے دی گئی جس پر پولیس موقع پرپہنچی انھوں نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ واردات میں استعمال کیا جانے والا ٹرک ڈیفنس تھانے کی حدود سے چوری کیا گیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ علاقہ مکینوں کی جانب دوران واردات اگر 15 پولیس کو اطلاع کردی جاتی ہے تو پولیس ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرنے میں کامیاب ہوجاتی۔
ایس ایچ او نے بتایا کہ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے پولیس جلد ملزمان کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔۔