وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے پریس کانفرنس میں ایڈز کے کیسز سے متعلق فنڈز کے استعمال سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ این جی اوز کی جانب سے فنڈز کے استعمال کی تفصیلات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں اور وزارت کو اس حوالے سے معلومات دینے سے انکار کیا جا رہا ہے، جس پر تشویش ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایچ آئی وی کیسز کا گراف میں اچانک اضافہ نہیں ہوا بلکہ مستحکم ہے اور اس وقت ملک میں رجسٹرڈ کیسز کی تعداد 84 ہزار ہے، جن میں سے 61 ہزار افراد زیر علاج ہیں اور دیگر 23 ہزار مریضوں کا سراغ نہیں مل سکا کیونکہ وہ علاج نہیں کروا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ یہ کہنا کہ ایڈز لاعلاج ہے یہ غلط ہے کیونکہ اب ایڈز قابل علاج ہے اور اس کی ادویات سرکاری مراکز پر مفت دستیاب ہیں۔
مصطفی کمال نے کہا پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے 3 لاکھ 69 ہزار کیسز ہونے چاہیے تھے، تاہم موجودہ شرح صفر اعشاریہ ایک فیصد ہے جو عالمی تناسب صفر اعشاریہ 5 فیصد سے کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ تونسہ میں ایچ آئی وی کیسز کی رپورٹ 2024 کی ہے اور جنوری سے اپریل 2026 میں کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا، اسلام آباد میں 618 کیسز رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے 208 مقامی اور 408 کیسز دیگر علاقوں سے ریفر ہو کر آئے ہیں، جن میں راولپنڈی، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر شامل ہیں۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا ہے کہ ہم ملک میں 10 سی سی کی سرنج پر پابندی لگانے جا رہے ہیں جو سرنج ایک بار استعمال ہو گئی، وہ دوبارہ استعمال نہیں ہوگی۔