خلیج تعاون کونسل نے آبنائے ہرمز پر جہازوں سے فیس کی تجویز مسترد کردی

0 minutes, 0 seconds Read
خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رہنماؤں نے آبنائے ہرمز سے محفوظ اور آزادانہ آمد و رفت پر زور دیتے ہوئے یہاں سے گزرنے والے جہازوں پر کسی بھی قسم کی فیس عائد کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔

ترک خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل جسیم محمد البداوی نے بتایا کہ سعودی عرب کے شہر جدہ میں خلیج تعاون کونسل کے رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس ہوا جہاں خلیجی رہنماؤں نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کو مسترد کردیا گیا اور اس اقدام کو غیرقانونی قرار دے دیا۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں شریک رہنماؤں نے مشترکہ تیل اور گیس پائپ لائن کی تعمیر کے لیے فوری اقدامات کرنے اور بیلسٹک میزائلوں کے مقابلے کے لیے ابتدائی انتباہی نظام قائم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

خیال رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے بحری راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے ایران-امریکا اور اسرائیل جنگ شروع ہونے سے قبل روزانہ کی بنیاد پر عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ یہاں سے گزرتا تھا۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد مارچ کے شروع سے اس تجارتی میں تعطل شروع ہوا جس کے نتیجے میں پوری دنیا میں توانائی کی سپلائی میں بھی خلل پڑا اور کئی ممالک میں بحرنی کیفیت کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔

بعد ازاں پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہوئی لیکن امریکی ناکہ بندی اور ایران کے قبضہ برقرار رکھنے کے اعلانات کے بعد غیریقینی صورت حال بدستور برقرار ہے تاہم دونوں فریقین کے درمیان مستقل معاہدے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

 

Similar Posts