اتنی سی عمر میں اتنی تنخواہ کیوں؟ کمپنی کے نوکری نہ دینے پر نوجوان سیخ پا

0 minutes, 0 seconds Read

ایک نوجوان صرف نوکری تلاش کرنے کے تجربے کو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں صرف ان کی عمر کی وجہ سے ایک جاپانی کمپنی نے نوکری دینے سے انکار کردیا۔

ایک 21 سالہ نوجوان صارف کے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ اس نے LinkedIn کے ذریعے ایک جاپانی کمپنی میں نوکری کے لیے درخواست دی۔ بھرتی کے عمل میں متعدد مراحل شامل تھے، جیسے کہ ایک ہوم ٹیسٹ، ایک تکنیکی انٹرویو اور ایک ایچ آر انٹرویو۔ وہ تمام مراحل کامیابی سے پاس کر چکا تھا، لیکن ایچ آر انٹرویو کے دوران، توجہ اس کی عمر اور موجودہ تنخواہ پر مرکوز ہو گئی۔

نوجوان نے بتایا کہ ”میں نے جواب دیا 21 اور انہوں نے کہا کہ میری تنخواہ میری عمر کے لحاظ سے بہت زیادہ تھی۔ ان کے چہرے کے تاثرات بدل گئے اور ان کا جوش ماند پڑ گیا۔ تکنیکی انٹرویو میں اچھا کرنے کے باوجود، بعد میں انہوں نے مجھے بتایا کہ میں اس کردار کے لیے ’بہت کم عمر‘ ہوں۔“ اس نے لکھا، اور مزید کہا کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی کم عمر نوکری تلاش کرنے میں ایک رکاوٹ بن گئی ہے۔

نوجوان کی پوسٹ پر مختلف رد عمل آئے ، مختلف آراء کا اظہار کیا، اور بہت سے نوجوان صارفین نے اس بات کی نشاندہی کی کہ جاپان کا تنخواہ کا نظام زیادہ تر سینیارٹی (عمر) پر مبنی ہوتا ہے نہ کہ مہارت پر۔

ایک صارف نے وضاحت کی، ”جاپان میں، تنخواہ بڑی حد تک عمر پر مبنی ہوتی ہے۔ زیادہ تر لوگ تقریباً 250,000 ین ماہانہ سے شروع کرتے ہیں، اور جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے ہیں، ان کی تنخواہ بڑھتی جاتی ہے۔ امریکا کے برعکس، تجربہ تنخواہ کا تعین نہیں کرتا۔“

ایک اور صارف نے تجویز پیش کی کہ شاید مسترد ہونے کی وجہ عمر نہیں بلکہ پیسہ ہو: ”ہوسکتا ہے کہ وہ صرف آپ کی تنخواہ کی قیمت برداشت نہیں کر پاتے ہوں۔ کبھی کبھار کمپنیاں مسترد کرنے کی اصل وجہ نہیں بتاتیں۔“

کئی صارفین نے جاپان کی عمر پر مبنی بھرتی کی ثقافت کو اجاگر کیا۔ ایک نے لکھا، ”جاپانی کمپنیاں مہارت کے بجائے سینارٹی کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔ یہ ایک ثقافتی بات ہے۔“ ایک اور نے مشورہ دیا، ”امریکی کمپنیوں کی طرف نشانہ لگائیں۔ وہ بہتر تنخواہ دیتی ہیں اور کیریئر کی ترقی کے زیادہ مواقع فراہم کرتی ہیں۔“

دوسروں نے پارٹ ٹائم نوکریوں کے ذریعے 3–4 سال کے تجربے کے دعوے پر بحث کی۔ ایک صارف نے کہا، ”پارٹ ٹائم نوکریاں مکمل تجربے کے طور پر نہیں گنی جاتیں، خاص طور پر اگر وہ ’حقیقی‘ نوکریاں نہیں ہوں۔“

ایک اور نے اس بات کی نشاندہی کی کہ 40 سال سے زائد عمر کے نوکری کے متلاشیوں کو اس سے بھی بدتر امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے: ”کوشش کریں 40+ ہونے کا۔ ہمیں اس سے لاکھوں گنا زیادہ مشکلات پیش آتی ہیں۔“

دوسروں نے پارٹ ٹائم نوکریوں کے ذریعے 3–4 سال کے تجربے کے دعوے پر بحث کی۔ ایک صارف نے کہا، ”پارٹ ٹائم نوکریاں مکمل تجربے کے طور پر نہیں گنی جاتیں، خاص طور پر اگر وہ ’حقیقی‘ نوکریاں نہیں ہوں۔“

کچھ صارفین نے ایسی صورتحال سے نمٹنے کے طریقے تجویز کیے۔ ایک نے کہا، ”آپ کی غلطی یہ تھی کہ آپ نے اپنی عمر ظاہر کی۔ آپ کو ان سے یہ پوچھنا چاہیے تھا کہ یہ نوکری کے لیے کتنا اہم ہے۔ کیا آپ نے دوسرے امیدواروں کے مقابلے میں ٹیسٹ اچھے طریقے سے کیے؟ کبھی بھی عمر، مذہب، یا ذاتی پس منظر کے بارے میں سوالات کا جواب نہ دیں۔“

Similar Posts