چین میں 108 منزلوں پر مشتمل بلند ترین عمارت سے چھوٹا طیارہ ٹکراگیا
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں واقع 108 منزلوں پر مشتمل بلند ترین عمارت سے ایک چھوٹا طیارہ ٹکرا گیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ واقعے کے بعد پولیس نے عمارت کے اطراف کی سڑکیں بند کر دیں اور لوگوں کو تصاویر اور ویڈیوز بنانے سے روک دیا جب کہ چینی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعے کو ایک کار کے حجم کے برابر چھوٹا طیارہ بیجنگ کے مرکزی کاروباری علاقے میں واقع 108 منزلہ سی آئی ٹی آئی سی ٹاور سے ٹکرا گیا، جو سرکاری کمپنی سی آئی ٹی آئی سی گروپ کا ہیڈکوارٹر بھی ہے۔
واقعے کے بعد عمارت کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی جب کہ متعدد سڑکیں ٹریفک کے لیے بند کر دی گئیں۔ پولیس اہلکاروں نے راہگیروں کو تصاویر اور ویڈیوز بنانے سے روک دیا جب کہ بعض افراد سے پہلے سے بنائی گئی تصاویر بھی حذف کروا دیں اور انہیں علاقے سے ہٹا دیا۔
رپورٹ کے مطابق عمارت کی ایک بلند منزل پر شیشے کے 2 پینل ٹوٹ گئے تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
رائٹرز سے گفتگو کرنے والے ایک کوریئر نے بتایا کہ شام تقریباً 6 بجے اسے زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی، جس کے بعد وہ فوری طور پر موقع پر پہنچا۔ اس کے مطابق چھوٹا طیارہ عمارت سے ٹکرایا تھا۔ اس نے کہا کہ ”آواز آتش بازی سے بھی زیادہ زور دار تھی۔“
کوریئر کے مطابق اس نے طیارے کے عمارت میں پھنسے ہونے کی ویڈیو بھی بنائی تھی تاہم پولیس کے خوف سے بعد میں اسے حذف کر دیا۔
ایک اور کوریئر نے بتایا کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ تصاویر دیکھنے کے بعد موقع پر پہنچا، جن میں عمارت کے قریب سڑک پر چھوٹے طیارے کا ملبہ دکھایا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی پوسٹس بھی تیزی سے ہٹا دی گئیں جب کہ چینی سوشل میڈیا ایپ ژیاؤہونگ شو پر عمارت کے نام سے کی جانے والی تلاش میں صرف ایک روز پرانی پوسٹس ہی دستیاب تھیں۔
موقع پر درجنوں پولیس گاڑیاں اور فائر بریگیڈ کی کئی گاڑیاں موجود تھیں۔ رائٹرز کے صحافیوں کو بھی پولیس نے وہاں سے جانے کا حکم دیا۔ جب صحافیوں نے اس کی وجہ پوچھی تو ایک پولیس اہلکار نے جواب دیا، ”ہم سب جانتے ہیں کیوں۔“
بیجنگ کی بلدیاتی حکومت نے واقعے پر رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا جب کہ خبر شائع ہونے تک چینی حکام کی جانب سے واقعے کی سرکاری تصدیق یا مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں۔