چیف الیکشن کمشنر اور 2 ارکان کی تقرری کے لئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا اہم خط جلد بازی کی نذر ہوگیا، اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کارروائی کے لیے وزارت پارلیمانی امور کو بھیج دیا۔
چیف الیکشن کمشنر اور 2 ارکان کی تقرری کے معاملے پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا خط اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے مزید کارروائی کے لیے وزارت پارلیمانی امور کو بھجوا دیا۔
وزارت پارلیمانی امور نے اس پر رہنمائی کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ دیا تھا، حکومتی فیصلے کے مطابق امیدواروں کی نامزدگی پہلے، پھر پارلیمانی کمیٹی کا قیام ہے، اپوزیشن لیڈر کو نامزدگی کے معاملہ پر وزیراعظم سے رجوع کرنا پڑے گا۔
چیف الیکشن کمشنر کی ریٹائرمنٹ میں ایک دن باقی، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت نہ ہوسکی
تقرری عمل مکمل ہونے تک موجودہ چیف اور ارکان کو آئینی تحفظ حاصل ہے جبکہ حکومت کو موجودہ ارکان کا متبادل لانے کی کوئی جلدی نہیں، حکومتی ذرائع کے مطابق امیدوار سامنے نہ ہوں تو کمیٹی کا قیام بے مقصد ہے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی 26 جنوری کو آئینی مدت پانچ سالہ مدت پوری ہوگئی تھی، تاہم وہ متعلقہ جانشینوں کی تقرری تک اپنے عہدوں پر فائز رہیں گے۔
چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے دو ارکان نثار احمد درانی (سندھ) اور شاہ محمد جتوئی (بلوچستان) نے 27 جنوری 2019 کو عہدوں کا چارج سنبھالا تھا۔
نیا چیف الیکشن کمشنر کون؟ قاضی فائز عیسیٰ کے نام کی ایک بار پھر گونج
گزشتہ اکتوبر میں 26 ویں ترمیم کے آرٹیکل 215 (1) میں ترمیم کے بعد ای سی پی کے تینوں افسران اس وقت تک سرکاری عہدوں پر فائز رہ سکیں گے جب تک ان کے متبادل نہیں مقرر ہو جاتے۔