پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ 16 مارچ کو ضلع نوشکی میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تین سیکیورٹی اہلکار اور 2 معصوم شہریوں سمیت 5 بہادر سپوتوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ضلع نوشکی میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر خود کش حملہ ہوا اور گاڑی میں سوار خودکش بمبار نے سیکیورٹی فورسز کے قافلے کے قریب خود کو دھماکے سے اُڑایا۔
آئی ایس پی آر نے بتایاکہ دہشت گردوں کے حملے میں سیکیورٹی فورسز کے 3 جوان اور 2 شہری شہید ہوگئے جبکہ 3 جوان اور 2 معصوم شہری زخمی ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق نوشکی خودکش حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں میں ضلع نواب شاہ سے تعلق رکھنے والے 38 سالہ حوالدار منظور علی، ضلع نصیر آباد سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ حوالدار علی بلاول، ضلع بدین سے تعلق رکھنے والے 34 نائیک عبد الرحیم، کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سویلین ڈرائیور جلال الدین اور ضلع خاران سے تعلق رکھنے والے سویلین ڈرائیور محمد نعیم شامل ہیں۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی لہر، 24 گھنٹوں میں 10 حملے
آئی ایس پی آر نے کہا کہ جوابی کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا تعاقب کیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
ترجمان کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور اس بزدلانہ کارروائی میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا، پاکستان کی مسلح افواج قوم کے ساتھ مل کر بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ہمارے بہادر سپاہیوں اور جانثار شہریوں کی یہ قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
قلعہ سیف اللہ میں لیویز لائن کے مین گیٹ پر بھی دھماکا
دوسری جانب قلعہ سیف اللہ میں لیویز لائن کے مین گیٹ پر بھی دھماکا ہوا تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، دھماکے سے گیٹ کو نقصان پہنچا، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
کوئٹہ میں یکے بعد دیگرے تین دھماکے، ایک اہلکار شہید، 7 زخمی
حکام کا کہنا ہے کہ دونوں دھماکوں کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات جلد سامنے آئیں گی۔
دہشت گردوں نے نوشکی میں سیکیورٹی فورسز پر حملہ کیا، ترجمان بلوچستان حکومت
ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے کہا ہے کہ نوشکی میں آج صبح دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا، واقعہ کے بعد سیکیورٹی فورسز نے فوری ردعمل دیا، یہ حملہ بھی دہشت گردی کی تسلسل سے ہونی والی مذموم کارروائیوں کا حصہ ہے۔
شاہد رند کا کہنا تھا کہ حملے میں سیکیورٹی فورسز کانوائے کو بارودی مواد سے نشانہ بنایا گیا، فورسز نے فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنا دئیے۔
ترجمان بلوچستان حکومت نے کہا کہ ابتدائی کارروائی میں حملہ آور سمیت چار دہشت گرد مارے گئے، حملے میں سیکیورٹی فورسز کے تین جوان اور دو شہری شہید ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے، دہشت گردوں کے فرار کے تمام راستے بند کر دیئے گئے ہیں۔
شاہد رند نے کہا کہ دہشت گردوں کا پیچھا کیا جاررہا ہے، مارے جانے والے دہشت گردوں کے علاوہ دیگر کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔
ترجمان صوبائی حکومت نے کہا کہ علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا، یہ جنگ صرف سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کی نہیں، صوبے کے ہرفرد کی جنگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت، سیکیورٹی فورسز اور عوام ملکر اس جنگ میں لڑ رہے ہیں، دہشت گردی کو شکست دیں گے۔