امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، ایسا تب ہوا جب وائٹ ہاؤس نے ایک غیر معمولی بیان میں کہا کہ عدلیہ کو انتظامیہ کے اقدامات روکنے کا اختیار نہیں ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عدلیہ ہمارے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں روکے گی۔
یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب ایک وفاقی جج جیمز بواسبرگ نے صدر ٹرمپ کو ایلین اینیمیز ایکٹ کے تحت وینزویلا کے 200 سے زائد افراد کو ملک بدر کرنے سے روک دیا۔ ان افراد کا تعلق مبینہ طور پر وینزویلا کے خطرناک گینگ ”ٹرین ڈی آراگوا“ سے ہے، جو اغوا، بھتہ خوری اور کنٹریکٹ کلنگ جیسے جرائم میں ملوث بتایا جاتا ہے۔
ٹرمپ نے ایک مخصوص گینگ کے خلاف ملک بھر میں جنگی قانون نافذ کردیا
تاہم، عدالتی فیصلے کے باوجود، انتظامیہ نے ملک بدری کا عمل جاری رکھا، جس پر عدلیہ اور ایگزیکٹو کے درمیان کھچاؤ مزید بڑھ گیا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے عدالتی حکم کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک جج کسی شہر میں ہوائی جہاز کی نقل و حرکت کا فیصلہ نہیں کر سکتا، خاص طور پر جب یہ غیر ملکی دہشت گردوں سے بھرا ہو، جنہیں امریکی سرزمین سے نکالنے کی ضرورت ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ عدالت کا کوئی قانونی جواز نہیں اور عدلیہ کو صدر کے خارجہ امور میں مداخلت کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔‘
امریکا میں سفری پابندیوں سے بچنے کے لیے پاکستان کو ساٹھ دن کی مہلت
یہ معاملہ امریکی آئین کے تحت نافذ چیک اینڈ بیلنس کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، جس میں عدلیہ کی آزادی کو ایگزیکٹو شاخ کی جانب سے کھلی مزاحمت کا سامنا ہے۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا ان کی انتظامیہ نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے، تو انہوں نے معاملہ وکلا کے سپرد کرنے کی بات کی اور صرف اتنا کہا، ’یہ برے لوگ تھے۔‘