اسرائیل نے غزہ پر جنگ بندی ختم کرتے ہوئے 35 سے زائد فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں 200 فلسطینی شہید اور 150 زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے وسطی غزہ کے دیرالبلاح میں 3 گھروں کو نشانہ بنایا گیا، خان یونس اور رفح میں بھی حملے کیے گئے۔
فلسطین کی سول ایمرجنسی سروس کا کہناہے کہ غزہ میں صحری کے وقت اسرائیلی فوج نے 35 فضائی حملے کیے۔ ان حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 200 ہو گئی جبکہ 150 زخمی بھی ہوئے۔
خبر ایجنسیوں کے مطابق، اسرائیل نے ان حملوں سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اعتماد میں لیا تھا۔ اس کارروائی سے غزہ میں موجود صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
رہائی پانے والے اسرائیلی یرغمالی کے غزہ کی سرنگوں کے حوالے سے ہوشرُبا انکشافات
19 جنوری کو حماس کے ساتھ جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اسرائیل کی جانب سے یہ سب سے بڑے حملے کیے گئے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی سے بار بار انکار اور دی گئی تمام تجاویز کو مسترد کرنے کے بعد اسرائیلی فوج کوغزہ میں حماس کے خلاف سخت ایکشن لینے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی حملوں پر فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل یکطرفہ طور پر جنگ بندی معاہدے کو ختم کر رہا ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں شہریوں پر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر مذاکرات شروع کرنے کا حماس کا مطالبہ مسترد کردیا تھا، معاہدے کے تحت دوسرے مرحلے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان مستقبل جنگ بندی طے پانی تھی۔