آئی ایم ایف نے بجلی نرخوں میں کمی کے حکومتی پلان کو گرین سگنل دے دیا

0 minutes, 0 seconds Read

آئی ایم ایف قرض پروگرام کے تحت ایک ارب ڈالر سے زائد کی دوسری قسط کے حصول کے لیے حکومت اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان مذاکرات کا اہم مرحلہ جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے پاور ڈویژن کے ساتھ بجلی ٹیرف ری بیسنگ پر بات چیت کی ہے۔ اس دوران حکومت کی جانب سے بجلی نرخوں میں کمی کے پلان پر آئی ایم ایف نے گرین سگنل دے دیا ہے۔

آئی ایم ایف نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور پاور ڈویژن کو مشاورت سے فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

حکومت کو آئی ایم ایف قسط کے حصول کیلئے نئے ٹیکس اہداف اور شرائط کا سامنا

حکومت نے آئندہ ماہ اپریل سے بجلی نرخوں میں کمی کا منصوبہ آئی ایم ایف کے سامنے رکھا ہے، جس کے تحت بنیادی ٹیرف میں 2 روپے فی یونٹ تک کمی کی تجویز شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق اپریل یا مئی سے بجلی کے فی یونٹ نرخ میں 1 سے 2 روپے تک کمی ہو سکتی ہے۔

حکومت نے تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کا منصوبہ بھی آئی ایم ایف مشن کے ساتھ شیئر کر دیا ہے۔

آئی ایم ایف نے جنوری تک دو ڈسکوز کی نجکاری نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ناقص کارکردگی پر بھی ناپسندیدگی ظاہر کی ہے۔

آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ ڈسکوز کی کارکردگی بہتر کیے بغیر پاور سیکٹر میں بہتری ممکن نہیں۔

کے الیکٹرک کی غفلت سے شہریوں پر مہنگی بجلی کا بوجھ پڑ گیا

ذرائع کے مطابق آج پاور سیکٹر کے گردشی قرضے پر بھی آئی ایم ایف وفد سے اہم مذاکرات شیڈول ہیں، جبکہ ایف بی آر کی ریونیو پالیسی، زرعی انکم ٹیکس، پراپرٹی سیکٹر پر ٹیکس اور ساورن ویلتھ فنڈ پر بھی آج بات چیت متوقع ہے۔

Similar Posts