پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما، سینئر قانون دان اور سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے پارلیمانی کمیٹی کی بریفنگ میں شرکت کے حوالے سے تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر دو آراء تھیں۔ ایک رائے یہ تھی کہ ہم بریفنگ میں اپنی رائے دیں، جبکہ دوسری رائے یہ تھی کہ بانی کی شرکت لازمی ہونی چاہیے۔ ہم چاہتے تھے کمیٹی میں مؤقف پیش کریں کہ بانی پی ٹی آئی کو بلایا جائے، جب پتہ چلا کہ کچھ اتحادی شریک نہیں ہورہے تو ہم نے فیصلہ کیا کہ شرکت کا بانی سے پوچھ لیتے ہیں، بانی نے کہا ضروری ہے کہ میں بھی اجلاس میں شرکت کروں اور کہا کہ مطالبہ رکھیں مجھے بھی شامل کیا جائے،بانی نے کہا کہ میں مکمل حل پیش کروں گا۔
بیرسٹر علی ظفر نے آج نیوز کے پروگرام ”اسپاٹ لائٹ“ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا ذاتی اور پی ٹی آئی کا واضح مؤقف یہی ہے کہ ہم دہشتگردی کی سخت سے سخت مذمت کرتے ہیں، ہمیں اس کا ایک مکمل حل ڈھونڈنا ہے۔ اس بات پر پارٹی میں اتفاق تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جو حل ہے ہمیں اس میں بھرپور حصہ لینا ہے۔
بیرسٹر علی ظفر کے مطابق عمران خان نے کہا کہ ’بلوچستان میں اگر آپریشن کرنا پڑا تو ضرور کرنا چاہئیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اگر آپ وہاں کے لوگوں کو منتخب حکومت نہیں دیں گے، بلوچستان حکومت میں وہاں کے لوگوں کے اصل نمائندے نہیں آئیں گے تو لوگ اپنے مطالبات سیاسی میدان میں نہیں پیش کرسکیں گے اور دہشتگردی کی طرف بڑھیں گے‘۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں خدشہ تھا کہ عمران خان کے بغیر یہ اجلاس میں کوئی ایسے فیصلے کرلیں گے جیسے انہوں نے 26ویں ترمیم کے طور پر کئے اور کہا کہ ہم نے پی ٹی آئی کو پورا موقع دیا اور وہ اس میں برابر کے شریک تھے، تو ہم نے جانا مناسب نہیں سمجھا اور کہا کہ پہلے آپ عمران خان کو بلائیں۔
بیرسٹر علی ظفر نے پی ٹی آئی کا وفد افغانستان بھیج نے کے سوال پر کہا کہ ’ہدایات دے دی گئی ہیں، وفد جائے گا بھی اور بات چیت کرنے کی کوشش بھی کرے گا‘۔
’پی ٹی آئی نے دوبارہ اپنے مخالفین کو راستہ دے دیا‘
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جمیعت علماء اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ میں خود اس کا حامی تھا کہ عمران خان کو پیرول پر چھوڑ دیا جائے اور ان کو بھی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شریک کیا جائے، لیکن میں اس بات کا حامی بالکل نہیں تھا کہ پی ٹی آئی اس اجلاس میں شرکت نہیں کرتی۔
کامران مرتضیٰ نے کہا کہ یہ اس تھوڑی بہت اسپیس سے محروم ہوگئے ہیں جو ان کیلئے بننی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بیرسٹر علی ظفر نے جو ساری باتیں یہاں کہیں وہ ساری باتیں اجلاس میں رکھنے کی تھیں، ’ممکن ہے کہ وہ سافٹ لائنر بن جاتے‘، آپ نے دوسری طرف کو دوبارہ اپنے خلاف ایک راستہ دے دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں نواز شریف کو ’یقیناً آنا چاہئیے تھا‘۔ میں جب کوئٹہ سے آسکتا ہوں تو وہ لاہور سے کیوں نہیں آسکتے۔
نواز شریف کیوں نہ آئے؟
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا احسان افضل نے کہا کہ نواز شریف اگر اجلاس میں آتے تو بہت اچھا ہوتا، ان کا ایک تجربہ ہے اور وہ اچھی رائے دیتے، لیکن اجلاس میں ترجمانی اہم ہوتی ہے۔
انہوں نے عمران خان کو اجلاس میں نہ بلانے پر کہا کہ ملک حالت جنگ میں ہے اور اس میں ’بارگیننگ نہیں ہونی چاہئیے‘۔