بھارت میں مسلمانوں کو دبانے کی ہر کوشش ناکام ہونے کے بعد اب انتہاپسند ہندوؤں کی جانب سے معاشی بائیکاٹ کا نیا حربہ سامنے آیا ہے۔ عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، حالیہ عرصے میں بھارت کی مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کے اقتصادی اور سماجی بائیکاٹ کا عمل تیز ہو گیا ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ معاشی بائیکاٹ مہم اترا کھنڈ، مدھیہ پردیش، راجھستان اور اتر پردیش جیسے بڑے بھارتی ریاستوں میں پھیل چکی ہے۔ اس مہم کے دوران مسلمانوں کے کاروبار، خصوصاً ہوٹلوں اور دکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جہاں انتہاپسند ہندوؤں کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مسلمان تاجروں کو دکانیں کرائے پر نہ دی جائیں۔
سوشل میڈیا پر مسلمان دکانداروں اور ہوٹل مالکان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
ایک مسلمان ہوٹل مالک وسیم احمد نے بین الاقوامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس پروپیگنڈے نے ان کے ہوٹل کو ویران کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر بے بنیاد الزامات نے کاروبار کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور وہ اس صورتحال سے سخت پریشان ہیں۔
اس معاشی بائیکاٹ مہم میں ہندو مذہبی رہنما بھی شامل ہیں۔ سوامی یشویت مہاراج نے اس مہم کی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ ہندوؤں کو مسلمانوں کے ہوٹلوں میں کھانا نہیں کھانا چاہیے۔ سوامی یشویت نے مسلمانوں کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مسلمان تھوک، پیشاب اور گائے کے گوشت کی ملاوٹ کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں، اتر پردیش میں مسلمانوں کی ملکیت والے ذبح خانوں کو غیر قانونی قرار دے کر بند کر دیا گیا ہے، جس کے باعث مسلمانوں کے ذریعہ معاش پر حملہ کیا گیا ہے۔ حاجی یوسف قریشی نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی روزگار کے ذرائع کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف یہ معاشی بائیکاٹ ایک منصوبہ بند حملہ ہے، اور دنیا بھر کو اس پر آواز اٹھانی چاہیے تاکہ مسلمانوں کے خلاف اس امتیازی سلوک کا خاتمہ کیا جا سکے۔