افغان مہاجرین کو اپنے ملک واپس بھیجنے کی تیاریوں کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، افغان کمشنر یٹ نے انکشاف کیا ہے کہ افغان سٹیزن کارڈ کے حامل افراد کے عارضی پتے کا ریکارڈ غائب ہے، کہا اے سی سی کارڈ میں صرف صوبے اور ضلع کی نشاندہی کی گئی ہے، حساس اداروں کو میپنگ تیز کرنے کی ہدایات کر دی گئی۔
افغان مہاجرین کی واپسی کی ڈیڈ لائن 31 مارچ ہے، تاہم افغان سٹیزن کارڈزہولڈر کی معلومات تک نہیں ہیں، اے سی سی کارڈ میں صرف صوبہ اور ضلع کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کارڈزکے حامل افغان باشندوں کے عارضی ایڈریس کی تفصیلات موجود نہیں۔
افغان کمشنر یٹ نے کہا کہ حساس اداروں کو اے سی سی کارڈ ہولڈرز کی میپنگ تیز کرنے کی ہدایات کر دی گئی ہیں.
رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو خاموشی سے جڑواں شہروں سے نکال کر افغانستان واپس بھیجنے کا فیصلہ
ذرائع افغان کمشنر یٹ نے کہا کہ اے سی سی کارڈز حامل افغان باشندوں کے عارضی ایڈریس کی تفصیلات موجود نہیں، افغان سیٹیزن کارڈ 2017-18 میں جاری کئے گئے تھے۔
غیرقانونی افغان مہاجرین نے پاکستان کے ساتھ ساتھ ایران کی ناک میں بھی دم کردیا
افغان سیٹیزن کارڈ محدود مدت کے لئے جاری کئے گئے تھے، محدود وقت میں افغان شہریوں کو پاکستان میں قانونی طور پر رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق 8 سال گزرنے کے باوجود اے سی سی کارڈ ہولڈرز نے اس پر عمل درآمد نہیں کیا، اب یہ لوگ افغانستان جا کر ویزے سے پاکستان آسکتے ہیں، افغان مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ نومبر 2023 سے جاری عمل کا تسلسل ہے۔