چینی کی قیمت 164 روپے کلو سے تجاوز نہیں کرنی چاہیے، نائب وزیراعظم

0 minutes, 0 seconds Read

مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی جانب سے شوگر ملز کو قیمتوں میں ہیرا پھیری کے خلاف خبردار کرنے کے بعد نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ چینی کی خوردہ قیمتیں 164 روپے سے زیادہ نہیں ہونی چاہئیں۔

وزیر اعظم کی جانب سے اعلان کردہ نرخوں اور حکومت کی جانب سے خوردہ قیمت فروخت 130 روپے فی کلو پر برقرار رکھنے کی متعدد کوششوں کے باوجود ملک بھر کی مختلف مارکیٹوں میں مارکیٹوں میں چینی کی قیمتیں 180 روپے فی کلو سے اوپر جا رہی ہیں۔

چینی کی کھپت 6.7 ملین ٹن تک بڑھنے کی پیشگوئی کی گئی ہے کیونکہ آبادی میں اضافے اور فوڈ پروسیسنگ سیکٹر کی مانگ کے باعث چینی کی قیمتوں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سیزن کے دوران پاکستان میں 68 لاکھ 40 ہزار ٹن سے زائد چینی پیداہوئی تھی جس میں 25-2024 میں اضافے کی توقع ہے۔

ہمارا معیشت کو ڈیفالٹ سے بچانا کچھ عناصر کو ہضم نہیں ہو رہا، اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں چینی کی کوئی کمی نہیں ہے، سستے بازاروں میں ایک سو تیس روپے فی کلو مل رہی ہے، کمیٹی کے اجلاس میں قیمتوں میں کنٹرول کے اقدامات اور شوگر ملز مالکان کے تحفظات کا جائزہ لیا گیا، آئندہ سال کرشنگ سیزن یکم نومبر سے شروع ہوگا۔

اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارنے چینی کی قیمتوں کے فیصلوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے چینی کی قیمتوں کے معاملے پر کمیٹی قائم کی تھی، کمیٹی کے اجلاس میں شوگر ملزمالکان کے تحفظات کا جائزہ لیا گیا۔

چینی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، شہری مٹھاس کیلئے کڑوا گھونٹ پینے پر مجبور

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ قیمتوں میں کنٹرول کرنے کے حوالے سے باقاعدہ اقدامات کا جائزہ لیا گیا، چینی کی قیمتوں میں بار بار اضافہ ہو رہا ہے۔

نائب وزیر اعظم نے کہا کہ رانا تنویرکی سربراہی میں قیمتوں کے جائزہ کے لیے ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کے اجلاس میں شوگر ملز مالکان کے تحفظات کا جائزہ لیا گیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ قیمتیں کنٹرول کرنے کے حوالے سے باقاعدہ اقدامات کا جائزہ لیا گیا، ملک میں شوگر کی کوئی کمی نہیں ہے۔

Similar Posts