سنگاپور میں مبینہ طور پر 5 مساجد پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھنے والے نوجوان کو حراست میں لے لیا گیا۔
عالمی میڈیا کے مطابق شہری ریاست کے محکمہ اندرونی سیکیورٹی (آئی ایس ڈی) نے ایک بیان میں کہا کہ 17 سالہ لڑکے کو حراست میں لیا گیا تھا جو 2019 میں نیوزی لینڈ میں مساجد میں نمازیوں کو قتل کرنے والے شخص برینٹن ٹیرنٹ کو اپنا ہیرو سمجھتا تھا۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ مذکورہ متعدد مساجد کے باہر درجنوں مسلمانوں کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والے ایک نوجوان کو حراست میں لے لیا گیا ہے جو جمعہ کی نماز کے بعد سنگاپور میں 5 مساجد پر حملوں کا فیصلہ کیا تھا۔
علاج کرانے کے بہانے آئے نوجوانوں نے مسلمان ڈاکٹر کو قتل کر دیا
آئی ایس ڈی نے یہ بھی کہا کہ اس کی شناخت ’مشرقی ایشیائی بالادست‘ کے طور پر ہوئی ہے، اور اس نے جمعہ کی نماز کے بعد سنگاپور بھر میں پانچ مساجد پر حملوں کا فیصلہ کیا تھا۔
وزیر داخلہ کے شانموگم نے صحافیوں کو بتایا کہ لڑکا کم از کم 100 مسلمانوں کو قتل کرنا چاہتا تھا، تاکہ وہ ٹیرنٹ سے زیادہ مسلمانوں کو مار سکے جبکہ وہ اپنے حملوں کو لائیو اسٹریم بھی کرنا چاہتا تھا۔
ٹیکساس: امریکا میں مسلمان ڈاکٹر کو چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا گیا
انہوں نے کہا کہ نوجوان نے گرفتاری سے قبل کئی بار بندوق حاصل کرنے کی کوششیں کی تھیں، اس نے کھل کر آئی ایس ڈی کو بتایا کہ اگر اس کے پاس بندوق ہوتی تو وہ اپنے حملے کرتا۔
نوجوان 18 سالہ نِک لی کے ساتھ آن لائن رابطے میں تھا، جسے دسمبر میں اسی طرح کے منصوبے رکھنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔
کثیر الثقافتی ملک نے حالیہ برسوں میں کئی ایسے واقعات دیکھے ہیں جہاں نوجوان سنگاپورینز کو آن لائن انتہا پسندانہ مواد دیکھنے کے بعد مبینہ طور پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
بھارت: انتہاپسندی عروج پر ، دو مسلمان قتل
2024 میں حکام نے ایک نوعمر لڑکے کو گرفتار کیا جو مبینہ طور پر ایک مصروف مضافاتی علاقے میں اسلامک اسٹیٹ گروپ سے متاثر ہوکر چاقو سے حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
بدھ کے روز بیان میں ’آئی ایس ڈی‘ نے یہ بھی کہا کہ فروری میں ایک 15 سالہ لڑکی کو پابندی کے حکم کے تحت رکھا گیا تھا، جس میں اسے آئی ایس ڈی کے ڈائریکٹر کی منظوری کے بغیر سفر کرنے یا انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے سے منع کیا گیا تھا۔
بیان میں الزام لگایا گیا کہ جولائی 2023 اور دسمبر 2024 کے درمیان لڑکی کے بیرون ملک مقیم داعش کے حامیوں کے ساتھ کم از کم آٹھ مختصر مدت کے رومانوی آن لائن تعلقات رہے تھے۔
کے شانموگم کا کہنا تھا کہ ’اس نے داعش کے چیٹ بوٹ سے وفاداری کا عہد کیا تھا، وہ داعش کے لیے لڑنا اور مرنا چاہتی تھی، اس نے شام جانے کے لیے پروازیں تلاش کیں، اس نے سوچا کہ وہ اپنے سفر کا منصوبہ بنانے کے لیے پیسے کیسے بچائے گی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ کے ذریعے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کا رجحان ’تشویشناک‘ ہے۔
آئی ایس ڈی نے کہا کہ اپنے طور پر بنیاد پرستی بہت جلد ہو سکتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’15 سالہ بچے کے معاملے میں، اس میں صرف ہفتے لگتے ہیں،‘ ساتھ ہی عوام سے اپیل کی کہ وہ ’انتہا پسندی کی علامات سے چوکنا رہیں۔