دھرنے سے کوئی مسئلہ نہیں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی ہمارا ایشو ہے: وزیر داخلہ

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دھرنے سے کوئی مسئلہ نہیں ہمارا ایشو صرف دہشت گردی ہے، دھرنے کو مؤخر کرنے والی شرط پیپلز پارٹی کی تھی ہم نے کبھی نہیں کہا کہ دھرنا ختم کریں۔

اتوار کے روز اسلام آباد میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور ثمر ہارون بلور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ آسان نہیں تھا۔ وفاقی حکومت ایک ماہ سے زائد عرصے تک کوشش کرتی رہی کہ صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے کر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنائی جائے۔ وہ ذاتی طور پر بھی پس پردہ خیبرپختونخوا حکومت سے رابطے میں تھے۔

محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک حکومت کے لیے اکیلے لڑنا ممکن نہیں، اس کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ان کے بقول حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی سے رابطے اور مذاکرات میں بھی پہل کی جاتی رہی لیکن تمام کوششوں کے باوجود اتفاق رائے نہ ہوسکا۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی تاریخ کے اعلان سے پہلے ہی مختلف معاملات پر پیش رفت جاری تھی اور حکومت کی جانب سے ملاقاتوں سمیت متعدد امور پر کام کیا جا رہا تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے 17 ستمبر کو نیویارک روانہ ہونا تھا اور کوشش تھی کہ ان کے بیرون ملک جانے سے پہلے اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کرکے معاملہ حل کرلیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فیصلہ ہوا تھا کہ وزیراعظم اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کریں گے اور انہیں لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کریں گے۔ اس مقصد کے لیے مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے پر بھی بات ہوئی اور صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات میں بھی اس معاملے پر گفتگو ہوئی۔

محسن نقوی کے مطابق پی ٹی آئی کے ساتھ دو روز تک مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات کے دوران مسودے میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں اور اسے تین سے چار مرتبہ حتمی شکل دی گئی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے پانچ سے چھ ترامیم کی نشاندہی کی گئی، جنہیں حکومت نے قبول کرلیا لیکن جب تمام معاملات طے ہوتے دکھائی دے رہے تھے تو ایک نیا مسودہ سامنے آگیا۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اس معاملے پر مل کر لڑائی لڑیں گے۔ اس پر پی ٹی آئی رہنماؤں سے کہا گیا کہ وہ خیبرپختونخوا حکومت کو بھی اعتماد میں لیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات کیے جاسکیں۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ مسودے کے ایک پیراگراف پر پی ٹی آئی سے تجاویز مانگی گئیں تاہم اس کا جواب نہیں ملا۔ ان کے مطابق گزشتہ رات 11 بج کر 45 منٹ تک پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطہ برقرار تھا اور انہیں بتایا گیا کہ اگر مسودے میں کوئی تبدیلی کرانی ہے تو آگاہ کردیں، ابھی بھی معاملہ حل کرنے کا موقع موجود ہے، لیکن دوسری جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔

محسن نقوی نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات 15 یا 16 ستمبر کو کرانے کی کوشش کی گئی تھی تاکہ ان کے بیرون ملک جانے سے پہلے معاملات طے ہوسکیں۔ تاہم، مسلسل رابطوں اور مذاکرات کے باوجود اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔

وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت نے کبھی پی ٹی آئی سے دھرنا ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق دھرنا مؤخر کرنے کی شرط پیپلز پارٹی کی جانب سے رکھی گئی تھی، وفاقی حکومت کا بنیادی مطالبہ دہشت گردی کے خلاف تعاون تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کو بتایا گیا تھا کہ وہ دھرنا کرنا چاہتی ہے تو کرے، حکومت کو اس سے مسئلہ نہیں تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کا تعاون ضروری ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات بھی ہوئی اور مولانا نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے بھی رابطے کیے، لیکن ان کوششوں کے باوجود کوئی نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی کوشش تھی کہ خیبرپختونخوا حکومت کو ساتھ ملا کر دہشت گردی کے خلاف اقدامات کیے جائیں، نہ کہ سیاسی اختلافات کو موضوع بنایا جائے۔

محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے 12 اضلاع میں حالات بہت زیادہ خراب ہیں اور بعض علاقوں میں لوگ شام کے بعد گھروں سے باہر نکلنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں میں اضافہ ہورہا ہے جب کہ گزشتہ روز الیکشن کمیشن کے ایک سینئر افسر کی بھی شہادت ہوئی۔

وزیر داخلہ کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے ان کی متعدد ملاقاتیں ہوئیں، جن میں گفتگو کا محور دہشت گردی کا مسئلہ تھا اور سیاسی معاملات پر بات نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی سے متاثرہ اضلاع میں پولیس کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات پر بات کی گئی تھی۔ ابتدا میں پانچ اضلاع سے کام شروع کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔ جب وزیراعلیٰ کی جانب سے مالی وسائل کی کمی کا معاملہ اٹھایا گیا تو وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ جہاں پیسوں کی ضرورت ہوگی، وہ فراہم کیے جائیں گے۔

محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ پر اتفاق ہوا تھا۔ ان کے مطابق متاثرہ علاقوں میں حالات معمول پر لانے، پولیس کو ضروری سہولیات فراہم کرنے اور سیکیورٹی انتظامات بہتر بنانے کے لیے اقدامات ضروری تھے، تاہم ان پر عملی پیش رفت نہ ہوسکی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج اور پولیس کی قربانیوں کی ذمہ داری لینا ہوگی۔ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران 518 پولیس اہلکار شہید ہوئے جب کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف وفاق اور صوبے کی الگ الگ پالیسیاں نہیں ہوسکتیں اور اس جنگ میں کسی ایک فریق کے لیے تنہا کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ طالبان کے ساتھ رابطوں کا معاملہ بھی موجود ہے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کے لیے صوبائی حکومت کا تعاون ناگزیر ہے۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حکومت نے تمام تر کوششیں کیں کہ مشکل فیصلے کی نوبت نہ آئے لیکن مذاکرات کے دوران اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث بالآخر آئینی راستہ اختیار کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں سے مذاکرات اور رابطوں کی تفصیلات کی تصدیق ان سے براہ راست بھی کی جاسکتی ہے۔

11 رکنی ایڈوائزری کمیٹی تشکیل، 12 اضلاع کے لیے سیکریٹریٹ قائم

دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ وفاقی کابینہ کا تفصیلی اجلاس دو گھنٹے سے زائد جاری رہا، جس میں خیبرپختونخوا کی صورت حال پر غور کیا گیا۔ ان کے مطابق کابینہ نے وزیراعظم کو قانون کے مطابق صدر مملکت کو ایڈوائس بھیجنے کی تجویز دی، جس کے بعد صدر نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدامات کیے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے گورنر نے اپنی رپورٹ وفاق کو بھجوائی، جو ان کی آئینی ذمہ داری تھی۔ صوبے میں امن و امان کی صورت حال غیر معمولی ہوچکی تھی اور حکومت کے مطابق آئینی طریقہ کار کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ اور متعلقہ اختیارات کے استعمال کی ضرورت پیش آئی۔

وزیر قانون نے کہا کہ گزشتہ دو سے ڈھائی سال کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً 196 فیصد اضافہ ہوا جب کہ بعض بیانات میں اس اضافے کو 200 فیصد تک قرار دیا گیا۔ ان کے مطابق شہادتوں اور گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصان میں بھی اضافہ ہوا جب کہ فوج، پولیس اور دینی رہنماؤں پر حملوں کے واقعات بڑھے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں آئینی نظام کے حوالے سے غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی تھی اور دہشت گردی کے اثرات دوسرے صوبوں تک بھی پہنچ رہے تھے۔ آئین وفاق اور صوبوں کو مشترکہ طور پر ذمہ داریاں ادا کرنے کا پابند کرتا ہے جب کہ امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وفاق کو آئینی اختیارات حاصل ہیں۔

اعظم نذیر تارڑ کے مطابق وفاقی حکومت نے آئین کے تحت صوبائی حکومت کو غیر فعال کرنے اور گورنر کو اپنے اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گورنر کی معاونت کے لیے مسلح افواج کی تعیناتی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے اور آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج تعینات کی گئی ہے۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے 11 رکنی ایڈوائزری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جب کہ 12 متاثرہ اضلاع کے لیے ایک سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے، جہاں سے براہ راست وفاق کو رپورٹ دی جائے گی۔ ان کے مطابق ایک کونسل بھی بنائی گئی ہے، جس کی ذمہ داری ایڈیشنل چیف سیکریٹری سنبھالیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئینی اقدامات کے تحت متعلقہ عہدے داروں کو غیر فعال کیا گیا ہے اور گورنر کو آئین کے مطابق اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزیر قانون نے مزید کہا کہ صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا۔ وفاقی حکومت کے مطابق صوبے میں حالات اس نوعیت کے تھے کہ آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت اقدامات کرنا پڑے۔

پی ٹی آئی کے دہشت گردوں سے روابط ہیں، عطا تارڑ کا الزام

ادھر وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی پر دہشت گردوں کے ساتھ روابط اور صوبے میں امن و امان کی صورت حال خراب ہونے کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے تانے بانے دہشت گردوں سے جا ملتے ہیں اور صوبائی حکومت کا دہشت گردوں کے ساتھ مبینہ طور پر اتحاد تھا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کو شراکت دار بنا لیا تھا اور خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع میں تھانوں تک طالبان کے کنٹرول میں ہونے کی اطلاعات ہیں۔

عطا اللہ تارڑ نے الزام لگایا کہ جن عناصر نے صوبے کا امن تباہ کیا، انہیں بااختیار بنایا گیا جب کہ امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری رکھنے والوں نے دہشت گردوں کو سہولت فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کو دہشت گردی کی لپیٹ میں دھکیلا جارہا تھا اور اس حوالے سے حکومت کے پاس ثبوت موجود ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت اور دہشت گردی کے معاملے میں مبینہ طور پر اختیارات کی شراکت کا فارمولا چل رہا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایڈوائزری کونسل کے لیے ارکان کا انتخاب میرٹ پر کیا گیا ہے۔

Related posts