سلہٹ ٹیسٹ: محمد رضوان کی بنگلہ دیشی کھلاڑیوں سے تلخ کلامی، ایکٹنگ کا طعنہ مل گیا

پاکستانی وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان اور بنگلادیش کے کھلاڑیوں کے درمیان سلہٹ ٹیسٹ میچ کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا، جہاں محمد رضوان کے آؤٹ نہ ہونے پر بنگلادیشی کھلاڑیوں نے رونا دھونا شروع کردیا، لٹن داس اور کپتان نجم الحسین شانتو نے رضوان کو ’ایکٹنگ‘ کا طعنہ بھی دیا جب کہ صورت حال کو سنبھالنے کے لیے امپائرز کو مداخلت کرنا پڑی۔

سلہٹ میں پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان جاری ٹیسٹ میچ کے دوران اس وقت ماحول کشیدہ ہوگیا، جب محمد رضوان سائیڈ اسکرین سے متعلق شکایت کر رہے تھے جس پر بنگلادیشی وکٹ کیپر لٹن داس نے بیچ میں مداخلت کی اور دونوں کے درمیان بحث چھڑ گئی۔

لٹن داس نے محمد رضوان سے کہا کہ ’’یہ کیا کر رہے ہو؟‘‘ جس پر رضوان نے جواب دیا کہ ’’وہ دیکھ، وہ دیکھ، وہ وہاں کھڑا ہے‘‘۔

اس دوران لٹن داس نے رضوان سے کہا کہ ’’ادھر کیا دیکھ رہے ہو؟ ادھر بیٹنگ کرو‘‘ جب کہ محمد رضوان نے پھر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ تیرا کام ہے، میرا کام ہے یا امپائر کا‘‘؟

واقعے کے دوران بنگلادیشی کھلاڑیوں کی جانب سے محمد رضوان کو ’ایکٹنگ‘ کا طعنہ بھی دیا گیا۔ لٹن داس نے مبینہ طور پر کہا کہ ’’50 ہو گیا، اب ایکٹنگ شروع ہو جائے گی‘‘۔

بنگلادیش کے کپتان نجم الحسین شانتو بھی اس موقع پر گفتگو میں شامل ہوئے جب کہ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

صورت حال کشیدہ ہونے پر امپائرز نے فوری مداخلت کرتے ہوئے معاملہ رفع دفع کروایا۔ محمد رضوان نے بنگلادیشی کھلاڑیوں سے کہا کہ ’’ہم آپ کی عزت کرتے ہیں، آپ بھی کریں‘‘۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز سہلٹ ٹیسٹ کے تیسرے روز بھی پاکستانی کپتان شان مسعود اور بنگلہ دیشی کھلاڑی مشفیق الرحیم کے درمیان نوک جھوک دیکھنے میں آئی تھی، یہ واقعہ بنگلہ دیش کی دوسری اننگز کے دوران پیش آیا تھا، جب مشفیق الرحیم محتاط انداز میں بیٹنگ کر رہے تھے۔

شان مسعود نے سست رفتار بیٹنگ پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بنگلہ دیشی بیٹر سے بات کی، جو دیکھتے ہی دیکھتے گرما گرم بحث میں تبدیل ہوگئی تھی۔ جس کے بعد واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی، ویڈیو میں پاکستانی کپتان شان مسعود کو یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ مشفق الرحیم ہر جگہ لڑائیاں کرتا ہے۔

صورت حال یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان امپائرز کو فوری مداخلت کرنا پڑی، جس کے باعث کچھ دیر کے لیے کھیل بھی روک دیا گیا تھا جب کہ امپائرز نے دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو پُرسکون کرنے کے بعد صورت حال کو قابو میں کیا تھا۔

Related posts