آرمی چیف کی ’ہارڈ اسٹیٹ‘ سے کیا مراد ہے؟ اس کے ملک پر کیا اثرات ہوں گے؟

0 minutes, 0 seconds Read

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نوابزدہ جمال رئیسانی کا کہنا ہے کہ آرمی چیف نے جس ”ہارڈ اسٹیٹ“ کا ذکر کیا، اس کا مطلب ہے کہ جتنے بھی دہشتگرد ہوں اور کوئی بھی دہشتگرد تنظیم ہو، بی ایل اے ہو یا بی ایل ایف ہو، ’ان کو ہم دہشتگردوں کی طرح ٹریٹ کریں گے‘۔

جمال رئیسانی نے آج نیوز کے پروگرام ”اسپاٹ لائٹ“ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سافٹ اسٹیٹ سے آرمی چیف کی مراد یہ تھی کہ، یہ جو افواہ پھیلائی گئی تھی کہ یہ تنظیمیں درست ہیں اور بلوچوں اور اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے دہشت گردی کیخلاف افغان حکام سے بات چیت کیلئے اپنی خدمات پیش کردیں

انہوں نے کہا کہ جتنے بھی ہم نے آپریشنز کئے ہیں ان میں شاخیں ختم کاٹی ہیں اور جڑوں تک نہیں پہنچے ہیں، اور جڑی افغانستان جیسے مملاک میں ہیں، را کی شمولیت ہے۔

جمال رئیسانی نے کہا کہ کل کے جلاس میں یہ طے ہوا ہے کہ جو ہاتھ پاکستان کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کرے گا اس سے ہم آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔

ہارڈ اسٹیٹ کے ملک پر کیا اثرات ہوں گے؟

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر ثناء اللہ بلوچ نے کہا کہ ’ہارڈ اسٹیٹ‘ کا کانسیپٹ (خیال) کبھی بھی کثیرالقومی اور کثیر السانی ملکوں میں کبھی کبھی کامیاب نہیں رہا ہے، یہ ان ملکوں میں کچھ عرصے کیلئے کامیاب ہوتا ہے جو ایک لسانی ہوں، جہاں ایک زبان ایک نسل اور ایک طبقے کے لوگ آباد ہوں۔

پاکستان کی سلامتی اولین ترجیح، اہداف کے تعاقب میں افغانستان میں بھی کارروائی کی جاسکتی ہے، بیرسٹر عقیل

انہوں نے کہا کہ یہ جو لفظ ہے ہارڈ اور سافٹ اسٹیٹ کا، اس کا فیصلہ سیاسی لوگوں یا پاکستان کی پارلیمنٹ کو کرنا چاہئے تھا، ’کسی نے شاید جنرل صاحب کو ویکیبلری اور ان سب چیزوں کے بارے میں بتایا نہیں ہوگا‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہارڈ اسٹیٹ میں سول سوسائٹی، اپوزیشن، سیاسی جماعتوں، جمہوری اداروں کیلئے جگہ نہیں رہتی، فری اینڈ فئیر الیکشن نہیں ہوتے۔ ہمارے ملک میں پہلے ہی 50 سے 60 فیصد علامات ہارڈ اسٹیٹ کی موجود ہیں۔ لیکن اگر آپ سرکاری طور پر اعلان کردیں گے کہ پاکستان ایک ہارڈ اسٹیٹ ہے تو اس کے ملک کیلئے کئی سفارتی اثرات ہوں گے۔

Similar Posts