سی آئی اے ڈائریکٹر کا اچانک ماسکو کا دورہ: تہران اور یوکرین معاملے پر خفیہ سفارت کاری تیز

امریکی خفیہ ایجنسی ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے منگل کے روز ماسکو کا ایک غیر اعلانیہ اور انتہائی خفیہ دورہ کیا جہاں انہوں نے اعلیٰ روسی حکام سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششیں جمود کا شکار ہیں جبکہ ایران کے معاملے پر واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

جان ریٹکلف کا ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں سی آئی اے ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد روس کا یہ پہلا دورہ ہے جبکہ نومبر 2021 کے بعد کسی بھی اعلیٰ امریکی خفیہ ادارے سربراہ کا ماسکو کا یہ پہلا اعلانیہ سفر ہے۔

اس دورے کی خبر اس وقت منظرِ عام پر آئی جب امریکی فضائیہ کا ایک ملٹری ٹرانسپورٹ طیارہ بوئنگ سی 17 گلوب ماسٹر ماسکو کے ونوکوو بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترا۔

فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق اس طیارے نے واشنگٹن کے قریب جوائنٹ بیس اینڈریوز سے پرواز کی تھی اور لٹویا کے دارالحکومت ریگا میں قیام کے بعد ماسکو پہنچا۔

طیارے کی آمد اور ماسکو کی سڑکوں پر سفارتی نمبر پلیٹوں والی گاڑیوں کی نقل و حرکت کی ویڈیوز کے بعد امریکی میڈیا نے اس سفر کی تصدیق کی۔

اس دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے لٹویا کی وزارتِ دفاع کے حکام نے تفصیلات بتانے سے معذرت کی اور صرف یہ کہا کہ اس پرواز کی تمام تر منظوری اور طریقہ کار پہلے سے مکمل ہم آہنگ کیے گئے تھے۔

اس خفیہ سفر پر ابتدائی طور پر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس اس امریکی طیارے کی آمد یا رواں ہفتے امریکی انتظامیہ کے نمائندوں کے ساتھ کسی طے شدہ ملاقات کے بارے میں فی الحال کوئی معلومات موجود نہیں ہیں۔

سی آئی اے اور امریکی وائٹ ہاؤس نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس دورے سے قبل امریکا نے یوکرین سے درخواست کی تھی کہ وہ ماسکو اور شمالی روس کے دیگر شہروں پر اپنے ڈرون اور میزائل حملے عارضی طور پر روک دے تاکہ سفارتی ماحول پر اثر نہ پڑے۔

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق اس دورے کا مقصد یوکرین جنگ کے ممکنہ تصفیے، امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے امکانات پر بات چیت ہو سکتا ہے۔

حالیہ دنوں میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ کی جانب سے ایران پر نئی معاشی ناکہ بندی کے بعد ماسکو اور تہران کا تزویراتی تعلق بھی گفتگو کا محور رہا ہو گا۔

اگرچہ دورے کے دقیق مقاصد اور بات چیت کا مکمل احوال تاحال راز میں ہے، لیکن عالمی سیاسی حلقے اسے واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان پسِ پردہ رابطوں کی ایک اہم اور غیر معمولی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

Related posts