وفاق پختونخوا کو افغانستان سے بات کرنے دے، دہشت گردی میں کمی آئے گی، بیرسٹر سیف

0 minutes, 0 seconds Read

مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ وفاق خیبر پختونخوا کو افغانستان سے بات کرنے دے، یقین ہے دہشت گردی کی لہر میں کمی آئے گی۔ کہا اگر وفاقی حکومت کے بقول دہشت گردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں تو حکومت کو افغانستان سے بات کرنے میں کیا رکاوٹ ہے۔

ترجمان خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف سرگرم تمام تنظیموں کے ساتھ بات چیت ضروری ہے، آخر اس مسئلہ کا انجام کیا ہے، کیا مزید لڑنا ہے یا مسئلہ ختم کرنا ہے۔

”گورننس گیپ“ کا بیان جعلی وفاقی حکومت کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ ہے، بیرسٹر سیف

انہوں نے کہا کہ وفاق خیبر پختونخوا کو افغانستان سے بات کرنے دے، یقین ہے اس سے دہشت گردی کی لہر میں کمی آئے گی، اگر وفاقی حکومت کے بقول دہشت گردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں تو حکومت کو افغانستان سے بات کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نہ تو خودافغانستان کو انگیج کرتی ہے، نہ کسی اور کو بات کرنے دیتی ہے، آخر اس مسئلہ کا انجام کیا ہے، افغانستان سے بات کریں اور ان سے کہیں کہ ٹی ٹی پی کو کنٹرول کریں۔

شریف خاندان ماضی میں بھی منی لانڈرنگ میں ملوث رہا ہے، بیرسٹر سیف

بیرسٹر سیف نے کہا کہ2021میں افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا ہوا، حکومت کی نااہلی ہے کہ اب تک جنگ چل رہی ہے ورنہ یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی آگ ہماری سرزمین پر لگی ہوئی ہے، دہشت گردی کی جنگ ختم کرنے کی ذمہ داری وفاقی حکومت کی ہے، طلال چوہدری کا احمقانہ بیان سنا ہے، علی امین گنڈاپور نے ایسی بات نہیں کی۔

بیرسٹر سیف نے حنیف عباسی کے بیان کو ”خدا حافظ چین“ کا سرکاری اعلان قرار دے دیا

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے جلسوں میں دہشت گردوں سے کہا تھا، ہماری طرف نہ آؤ باقی جو کرنا ہے کرو، مذاکرات کے دروازے کھولنے سے مسئلے کا حل نکل آتا ہے۔

ترجمان خیبر پختونخوا نے کہا کہ بارڈر کو مینج رکھنا اور دوسرے ممالک سے بات وفاقی حکومت کا کام ہے، طلال چوہدری کو کہوں گا کہ وہ تنظیم سازی پر توجہ دیں۔

Similar Posts