ماحولیاتی بحران کے سبب کراچی کی آبادی بڑھنے کا خدشہ

0 minutes, 0 seconds Read

اقوام متحدہ کی ایک تحقیق کے مطابق اگر دنیا کا درجہ حرارت 1.5 سینٹی گریڈ سے زیادہ بڑھتا ہے تو 2050 تک ایشیا پیسیفک کے علاقے کے دو شہر، کراچی اور ڈھاکا، عالمی جنوب کے 10 بڑے شہروں میں شامل ہوں گے جو 8 ملین ماحولیاتی مہاجرین کا استقبال کریں گے۔

”ایشیا اور پیسیفک میں شہری تبدیلی: اضافے سے لچک تک“ کے عنوان سے اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا اور پیسیفک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان 10 شہروں میں کراچی اور ڈھاکا وہ دو شہر ہوں گے جہاں ماحولیاتی مہاجرت کا سب سے زیادہ اثر ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق ڈھاکا میں 3.07 ملین اور کراچی میں 2.4 ملین اضافی لوگ آ سکتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کراچی کو حکومتی دائرہ اختیار کی پیچیدگیوں کا سامنا ہے، جس کے باعث یہاں کے بنیادی ڈھانچے میں ہم آہنگی کی کمی ہے اور اس کی وجہ سے قدرتی آفات جیسے 2020 میں کراچی میں آنے والے سیلاب جیسے واقعات پیش آتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ایشیا پیسیفک خطہ دنیا کے سب سے بڑے شہری علاقوں کا گھر ہے، جہاں 2.2 ارب شہری بستے ہیں۔ 2050 تک یہاں کی شہری آبادی میں 50 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جو 1.2 ارب لوگوں کی اضافی آبادی کے طور پر سامنے آئے گا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اس خطے میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے شہروں کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں ماحولیاتی ہجرت پہلے ہی نظر آنا شروع ہو چکی ہے۔

اس کے علاوہ رپورٹ میں شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ پانی کی کمی، خوراک کی کمی اور قدرتی آفات جیسے مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومتوں کو مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف اور پیرس معاہدے کے مقاصد کو حاصل کیا جا سکے۔

Similar Posts