صحافی فرحان ملک کیخلاف ریاست مخالف وڈیوز بنانے کا الزام، عدالت نے درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے

0 minutes, 0 seconds Read

صحافی فرحان ملک کے خلاف ریاست مخالف وڈیوز بنانے کے الزام میں عدالت نے درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے، درخواست پر سماعت عید کی تعطیلات کے بعد ملتوی کر دی گئی۔

صحافی فرحان ملک کی مقدمہ خارج کرنے کی درخواست کی سماعت سندھ ہائیکورت میں ہوئی جہاں عدالت نے درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست کی سماعت عید کی تعطیلات کے بعد ملتوی کردی۔

درخواست گزار کے وکیل کا مؤقف ہے کہ ایف آئی آر غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ہے، مقدمہ درخواست گزار کو ہراساں کرنے کی کوشش ہے۔

سینیئر صحافی اور یوٹیوب چینل کے بانی فرحان ملک گرفتار

وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ہم نے مقدمے پر حکم امتناع مانگا تھا جو نہیں ملا، جس وقت انکوائری شروع ہوئی تب پیکا ترمیمی ایکٹ موجود نہیں تھا، اس وقت الزام شہرت کو نقصان پہنچانے کا تھا۔

وکیل درخواست گزارنے مؤق اختیار کیا کہ اگر ایسے مقدمات کی اجازت دی گئی تو شہریوں کے خلاف مقدمات کا ایک نیا دروازہ کھل جائے گا، کوئی بھی سرکاری افسر کسی بھی شہری کے خلاف اپنا عناد مقدمے کی صورت میں نکال سگے گا۔

گرفتارصحافی فرحان ملک کی جانب درخواست میں سندھ حکومت، ایس ایس پی ایسٹ، ڈائریکٹر ایف آئی اے و دیگرکو فریق بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کراچی میں ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتار صحافی فرحان ملک کو گذشتہ دنوں گرفتار کرنے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزم کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں دیتے ہوئے عدالت نے آئندہ سماعت پر پیش رفت رورٹ طلب کی۔

Similar Posts