شہادت کی انگلی سے فالتو بتیاں اور پنکھے بند کریں تو زم زم لکھے بغیر بھی بل کم آجائے گا، مفتی سعد کا بیان

0 minutes, 0 seconds Read

آج نیوز کی رمضان اسپیشل ٹرانسمیشن ”بارانِ رحمت“ میں سوالات اور کالز کا سلسلہ جاری رہتا ہے، آج ٹرانسمیشن میں مفتی سعد نے کالرز کی جانب سے کیے گئے سوالوں پر دین کی حرمت اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے نہایت اہم نکتہ بیان کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دین کو مذاق نہ بنایا جائے اور ہر بات کو مناسب مقام اور ماحول کے مطابق کیا جائے۔

انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی حدیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا،

”تم بات کرو تاکہ تم پہچانے جاؤ۔“

اس حدیث کی روشنی میں انہوں نے وضاحت کی کہ ہر جگہ ہر بات کرنا مناسب نہیں ہوتا۔ ٹی وی چینلز پر رمضان نشریات کے دوران مقدس ماحول برقرار رکھنا نہ صرف علماء بلکہ چینل انتظامیہ کی بھی ذمہ داری ہے۔ دین کے معاملات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور ان کا احترام ہر حال میں مقدم رکھنا ضروری ہے۔

یاد رکھئے اللہ رب العزت نے قران کریم میں فرمایا ہے کہ علم والے اور حکمت والےبرابر نہیں ہوسکتے، انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’علم‘ یہ ہے کہ آپ نے کیابات کرنی ہے ’حکمت‘ یہ ہے کہ آپ نے کہاں بولنا ہے۔ تو جس شخص کو یہ نہیں معلوم کہ کونسی جگہ پر کونسی بات کرنی ہے تو اس شخص کے علم کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔

مفتی سعد نے سوشل میڈیا پر مذہبی موضوعات کو ہلکے انداز میں پیش کرنے، میمز بنانے اور غیر سنجیدہ وظائف شیئر کرنے کے رجحان پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ آج کل کوئی بھی شخص بغیر تحقیق کے دین کے بارے میں کوئی بھی بات کر دیتا ہے، اور یہی چیز دین کے تقدس کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہو یہ رہا ہے کہ کوئی بھی برملا آجکل اسلام اور دین کے معاملے میں کوئی بھی بات کر لیتا ہے، ابھی ایک ٹی وی چینل پر بجلی کے بل کے حوالے سے وظیفہ اور عمل بتایا جارہا ہے اسکی میمز بن رہی ہیں توایسا کرنا بہت غلط ہے یہ نہیں کہ آپ کچھ بھی بول دیں کوئی بھی وظیفہ بتا دیں کہ جی شہادت کی انگلی سے میٹر پر زم زم لکھیں بل کم آئے گا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مفتی سعد نے کہا کہ اگر واقعی بل کم کرنا ہے تو میں کہوں گا کہ شہادت کی انگلی سے وہاں کے بٹن بند کریں جہاں لائٹ جل رہی ہو، اور جہاں پنکھا چل رہا ہے تو آپ یہ کریں لازمی بل کم آئے گا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر ایک اسلامی اسکالر کسی پروگرام میں موجود ہے تو اس سے فقہی مسائل اور دینی امور پر سوالات کیے جائیں، نہ کہ دنیاوی معاملات جیسے بجلی کے بل کم کرنے کے وظائف پوچھے جائیں۔ اس طرح کے غیر متعلقہ سوالات اور ان کے غیر مستند جوابات دین کی روح کو مجروح کرتے ہیں۔

آخر میں، مفتی سعد نے ایسے تمام ٹی وی چینلز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں چینل پربیٹھ کر یہ بات کر رہا ہوں کہ ان تمام چینلز کو کہہ رہا ہوں کہ اُن چینلزکو دین کے معاملات میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اسلام کے ساتھ مذاق نہ کیا جائے، اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس کے احکامات کو مذاق بنانے یا غلط طریقے سے پیش کرنے کی ہرگز اجازت نہیں۔ دینی پروگرامز کو سنجیدگی اور احترام کے ساتھ پیش کیا جائے تاکہ عوام تک صحیح اور مستند معلومات پہنچ سکیں اور دین کو مزاق نہ بنائیں۔

Similar Posts