وزیراعظم کی سربراہی میں بٹ کوائن مائننگ اور ایسیٹ ٹوکنائزیشن پر اعلیٰ سطحی اجلاس

0 minutes, 0 seconds Read

وزیراعظم پاکستان کی سربراہی میں اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں بٹ کوائن مائننگ اور ریئل ٹائم ایسیٹ ٹوکنائزیشن میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری پر غور کیا گیا۔ اس اجلاس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان ڈیجیٹل معیشت کو اپنانے اور بلاک چین ٹیکنالوجی میں عالمی مرکز بننے کے لیے پرعزم ہے۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد، پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او بلال بن ثاقب، وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر توانائی سردار اویس احمد لغاری، وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک اور چیئرمین ایف بی آر راشد محمود نے شرکت کی۔

عالمی سطح پر بٹ کوائن مائننگ کے بڑے ادارے جینیسس گروپ کے بانی اور سی ای او مارکو اسٹرینگ، شریک بانی و سی ای او ڈاکٹر مارکو کرون، اور عالمی سطح پر اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کے رہنما پولیمتھ کینیڈا کے سی ای او ونسینٹ کادر بھی اجلاس میں شریک تھے۔

جینیسس گروپ اب تک ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کے بٹ کوائن مائن کر چکا ہے، جبکہ پولیمتھ کینیڈا 2017 سے اربوں ڈالر کے کموڈٹیز، رئیل اسٹیٹ اور سیکیورٹیز کو ٹوکنائز کر چکا ہے۔

اجلاس میں ان کمپنیوں کے نمائندوں نے پاکستان میں 3.5 ارب ڈالر کی لاگت سے جدید بٹ کوائن مائننگ انفراسٹرکچر کے قیام اور جامع اثاثوں کی ٹوکنائزیشن منصوبوں پر قابل عمل حکمت عملی پیش کی۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو مضبوط، غیرملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور مالیاتی نظام کو جدید، شفاف اور پائیدار بنانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

وزیراعظم نے پاکستان کرپٹو کونسل کو ہدایت کی کہ وہ ان کمپنیوں کے ساتھ فوری رابطہ کرکے مائننگ کے آغاز اور مختلف شعبوں میں اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کے لیے قابل عمل منصوبہ تیار کریں۔ مزید برآں، انہوں نے کرپٹو کرنسی کے حوالے سے باضابطہ قانون سازی کے لیے فوری اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی۔

پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او بلال بن ثاقب نے کہا کہ ’پاکستان کاروبار کے لیے تیار ہے۔ ہم عالمی کمپنیوں کو بٹ کوائن مائننگ، ڈیٹا سینٹرز اور حقیقی دنیا کے اثاثوں کی ٹوکنائزیشن میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ جدت پسندوں، سرمایہ کاروں اور بنیادی ڈھانچے کے معماروں کے لیے موقع ہے — پاکستان ڈیجیٹل معیشت میں قیادت کے لیے تیار ہے اور ویب 3 تبدیلی کا علاقائی مرکز بننے کے لیے پرعزم ہے۔‘

یہ اقدام پاکستان کو کرپٹو فرینڈلی ممالک کی صف میں نمایاں مقام دلا سکتا ہے، جہاں بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے معاشی ترقی، شفافیت اور عالمی مسابقت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

Similar Posts