پاکستان اور سعودی عرب کا معاہدہ، سفارتی پاسپورٹ کے حامل افراد کے لیے ویزا کی شرط ختم
پاکستان اور سعودی عرب نے سفارتی، سرکاری اور خصوصی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس فیصلے سے دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی حکام اور سرکاری نمائندوں کے درمیان سفر اور باہمی رابطوں میں مزید آسانی پیدا ہونے کی توقع ہے۔
یہ معاہدہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقات کے دوران طے پایا۔
اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ انہوں نے سعودی وزیر خارجہ کے ساتھ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی اور سرکاری یا خصوصی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرائط ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
معاہدے کے تحت متعلقہ پاکستانی اور سعودی حکام، جو سفارتی یا سرکاری نوعیت کے پاسپورٹ رکھتے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان سفر کے لیے پہلے سے ویزا حاصل کرنے کی شرط سے مستثنیٰ ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری دوروں اور دونوں ملکوں کے اداروں کے درمیان رابطوں کو زیادہ آسان بنانا ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق ویزا کی شرط ختم کرنے کا یہ فیصلہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں اور ادارہ جاتی تبادلوں میں سہولت فراہم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون اور باہمی رابطوں کو مزید آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے ہی سیاسی، سفارتی، دفاعی، اقتصادی اور دیگر شعبوں میں قریبی تعلقات ہموار ہیں۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان باقاعدگی سے ملاقاتیں اور سرکاری وفود کے تبادلے بھی ہوتے رہتے ہیں۔
اس معاہدے کے بعد سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے متعلقہ افراد کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سرکاری ذمہ داریوں کے سلسلے میں سفر کا عمل نسبتاً آسان ہوگا، جبکہ اس سے دونوں ملکوں کے اداروں کے درمیان براہ راست رابطوں میں بھی سہولت پیدا ہونے کی توقع ہے۔