وائٹ ہاؤس کی پابندی پر امریکی میڈیا کا احتجاج: ٹرمپ کی کوریج کا بائیکاٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تین بڑے میڈیا اداروں کو وائٹ ہاؤس سے کوریج کرنے سے روکنے کے فیصلے کے خلاف امریکا کے بڑے ٹی وی نیٹ ورکس نے غیر معمولی احتجاج کرتے ہوئے پیر کو وائٹ ہاؤس کی مشترکہ ٹی وی کوریج روک دی۔
سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے۔ ان اداروں کا مؤقف ہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے صحافیوں کی رسائی ختم کرنا امریکی آئین کی پہلی ترمیم میں دی گئی آزادیٔ اظہار اور آزاد صحافت کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
امریکا کے پانچ بڑے نشریاتی اداروں اے بی سی، سی بی ایس، سی این این، فاکس اور این بی سی نے مشترکہ بیان میں کہا کہ عوام کو اپنی حکومت کے بارے میں درست اور آزاد معلومات حاصل کرنے کا اہم حق ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ کوئی بھی انتظامیہ کسی خبر رساں ادارے کو صرف اس لیے محدود نہیں کر سکتی کہ وہ اس کی رپورٹنگ سے اختلاف کرتی ہے۔
ان اداروں کے فیصلے کے باعث پیر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے ٹرمپ کے دورے کی معمول کی ٹی وی کوریج نہیں ہو سکی۔ ٹرمپ کو وہاں مختلف ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کرنا تھیں۔
سی این این اور ایم ایس ناؤ کی جانب سے دائر مقدمے میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے عائد پابندی فوری طور پر ختم کی جائے اور اسے امریکی آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی قرار دیا جائے۔
میڈیا اداروں نے عدالتی درخواست میں کہا کہ یہ پابندی پہلی ترمیم پر اس سے زیادہ براہ راست حملہ نہیں ہو سکتی اور نہ ہی یہ ہمارے بنیادی آئینی اصولوں کی اس سے زیادہ واضح خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ نے تاہم اپنے فیصلے کا دفاع کیا اور میڈیا پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر میڈیا کو ”کینسر“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس آزاد صحافت پر حملہ نہیں کر رہا۔
ٹرمپ نے لکھا کہ وائٹ ہاؤس آزاد صحافت پر حملہ نہیں کر رہا، جسے میں قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ یہ جعلی خبروں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے، جو ہمارے پیارے امریکا میں کینسر کی طرح بڑھ گئی ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی پابندی کا دفاع کرتے ہوئے ان میڈیا اداروں پر بائیں بازو کا پروپیگنڈا پھیلانے کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ اب بھی رپورٹ کر سکتے ہیں۔ انہیں اب بھی آزادیٔ اظہار حاصل ہے۔ انہیں صرف وائٹ ہاؤس میں دفتر نہیں ملے گا۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے پابندی کے اعلان کے بعد ہفتے کو سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس کے احاطے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا اور ان کے پریس پاس واپس لے لیے گئے۔
تینوں اداروں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ان کے صحافیوں کے اجازت نامے ”بغیر کسی پیشگی اطلاع یا کارروائی“ کے منسوخ کیے گئے کیونکہ وائٹ ہاؤس ان کی رپورٹنگ سے ناخوش تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اس اقدام کو چیلنج نہ کیا گیا تو یہ ”پریس کی آزادی اور حکومتی مداخلت سے آزاد صحافت کے عوامی حق“ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ پابندی لگانے کی فوری وجہ کیا تھی، تاہم جمعے کو اوول آفس میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ گزشتہ دو سال کے دوران شائع ہونے والی مجموعی خبروں کی بنیاد پر کیا گیا۔
ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ریپبلکنز اور ریپبلکن انتظامیہ کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی خبردار کیا تھا کہ دیگر میڈیا اداروں کو بھی اسی طرح کی پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم انہوں نے کسی دوسرے ادارے کا نام نہیں بتایا۔
سی این این کے مطابق ٹرمپ کی قریبی معاون نٹالی ہارپ نے گزشتہ ہفتے انہیں میڈیا کوریج کی کچھ ویڈیوز دکھائی تھیں، جن میں پولیٹیکو کی ایک گرافک بھی شامل تھی۔ اس کے بعد ٹرمپ نے تین میڈیا اداروں پر پابندی کا اعلان کیا۔
ٹرمپ طویل عرصے سے ان میڈیا اداروں پر تنقید کرتے رہے ہیں جو ان کی انتخابی مہمات اور صدارتی دور کی پالیسیوں پر تنقیدی رپورٹنگ کرتے ہیں۔ وہ ماضی میں بھی امریکی میڈیا کو بارہا عوام کا دشمن قرار دے چکے ہیں۔