ایران اور پاکستان کا دوطرفہ تجارت بڑھانے، بارڈر کراسنگ 24 گھنٹے فعال رکھنے پر اتفاق
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے ملاقات کی ہے۔ دونوں ملکوں نے دوطرفہ تجارت 10 ارب ڈالر تک بڑھانے اور سرحدی گزرگاہیں 24 گھنٹے فعال رکھنے سمیت کوہک کے مقام پر نئی گزرگاہ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی پیر کے روز ایران کے دارالحکومت تہران پہنچے ہیں، جہاں ایئرپورٹ پر ان کا استقبال ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے کیا، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوئی۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے بتایا کہ ایران اور پاکستان نے دوطرفہ تجارت کو موجودہ تقریباً 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں نے تجارت میں اضافے کے لیے پہلے سے موجود سرحدی گزرگاہوں کو 24 گھنٹے فعال رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ ایک نئی بارڈر کراسنگ کھولنے پر بھی کام جاری ہے۔
محسن نقوی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافے اور ایران پر ممکنہ نئے امریکی حملے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
اسی دوران یہ خبریں بھی گردش کر رہی تھیں کہ محسن نقوی کا دورۂ تہران ممکنہ طور پر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے حوالے سے اہم ہوسکتا ہے، تاہم ایرانی وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ محسن نقوی کے اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ دوروں کے دوران طے پانے والے معاہدوں پر پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے بھی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ محسن نقوی کے دورۂ تہران کا ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کے تبادلے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس دورے میں بات چیت کا محور پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور تعاون ہی رہے گا۔
پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اسکندر مومنی نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان اچھے تعلقات کے باعث دوطرفہ معاہدوں میں سے بعض پر پہلے سے عمل درآمد جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملک کوہک کے مقام پر ایک نئی سرحدی گزرگاہ کھولنے کی تیاری کررہے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان آمدورفت اور تجارتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔
ایرانی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست ٹرین سروس کے لیے لائن پر بھی کام جاری ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی کے دورۂ ایران میں دیگر ایرانی حکام سے بھی ملاقاتیں شیڈول ہیں۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران دونوں ملکوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کی گئی پاکستانی کوششوں میں وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا، اور وہ اس عرصے میں کئی مرتبہ ایران کا دورہ کرچکے ہیں۔
پاکستان کی ثالثی میں جون میں امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت ’اسلام آباد میمورنڈم‘ پر دستخط ہوئے تھے، جس کے بعد فریقین کے درمیان ایک دوسرے پر دوبارہ حملوں کا سلسلہ شروع ہونے کی وجہ سے حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوسکا تھا۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران حال ہی میں نیویارک میں ہونے والے جنرل اسمبلی اجلاس کی صورت میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
امریکا کی جانب سے ایرانی قیادت کو اس اجلاس میں شرکت کے لیے ویزوں کی منظوری کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے نیویارک جانے کا امکان ہے۔
تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ ایرانی رہنماؤں کو ویزوں کا اجراء امریکا کی مہربانی نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے بانی رکن کی حیثیت سے یہ ایران کا قانونی حق ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ اس نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی 7 شرائط واشنگٹن کو بھجوا دی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ شرائط قطر کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچائی گئی ہیں اور اب ایران امریکی جواب کا انتظار کر رہا ہے۔