بلوچستان میں گزشہ روز جعفر ایکسپریس پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملے کے بعد سیکیورٹی فوروسز نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے 155 مسافروں کو بازیاب کروا لیا جبکہ آپریشن کے دوران اب تک 27 دہشت گردوں ہلاک کردیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بولان پاس، ڈھاڈر کے مقام پر دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے معصوم شہریوں کو ٹارگٹ کیا۔ دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس کو ٹنل میں روک کر400 مسافروں کو یرغمال بنایا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا گھیراؤ کرلیا ہے، دہشت گردوں سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، مشکل علاقہ ہونے کی وجہ سے آپریشن انتہائی احتیاط سے کیا جا رہا ہے۔ دہشت گردوں کے خاتمے تک کلیئرنس آپریشن جاری رہے گا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 155 یرغمال مسافروں کو دہشت گردوں سے رہا کروا لیا گیا، رہا ہونے والوں میں 58 مرد، 31 عورتیں اور15 بچے شامل ہیں، باقی مسافروں کی رہائی کے لیے فورسز کوشاں ہیں، دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔
سیکیوٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں 4 گن شپ ہیلی کاپٹرز بھی شامل ہیں۔ گن شپ ہیلی کاپٹرز کے وقفے وقفے سے دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر حملے جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اندھیرے کے باعث دہشتگردوں کو اب کوئی جائے پناہ نہیں مل پارہی۔ ایس ایس جی کمانڈوز نے 27 دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا، زخمی ہونے والے اہلکار ہیلی کاپٹر کے ذریعے کوئٹہ اسپتال منتقل کردیے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسزکے آپریشن کے باعث دہشت گرد چھوٹی ٹولیوں میں تقسیم ہوگئے، فورسزاوردہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ جاری ہے، ریسکیو کے بعد زخمی مسافروں کو مچھ کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
دہشت گرد افغانستان میں اپنے سہولت کاروں سے رابطے میں ہیں، سیکیورٹی ذرائع
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جعفر ایکسپریس حملے میں دہشت گردوں میں خود کش بمبار بھی موجود ہیں، جعفر ایکسپریس حملہ میں سیکیورٹی فورسز کا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے، دہشت گرد افغانستان میں اپنے سہولت کاروں سے رابطے میں ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ خود کش بمبار یرغمالی مسافروں کے بالکل ساتھ بیٹھا ہوا ہے، دہشت گرد خود کش جیکٹیں پہنے ہوئے ہیں، دہشت گرد خود کش بمبار معصوم لوگوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز خود کش بمباروں کی موجودگی کے باعث انتہائی احتیاط سے کام لے رہی ہیں۔
واضح رہے کہ ریلوے حکام کے مطابق جعفر ایکسپریس گزشتہ روز صبح نو بجے کوئٹہ سے روانہ ہوئی تھی، جو ٹنل نمبر آٹھ پر رکی۔ دہشتگردوں نے سوا 1 بجے کے قریب حملہ کیا، جعفرایکسپریس کوئٹہ سے پشاور جارہی تھی۔ حکام نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس 9 بوگیوں پر مشتمل ہے، جس میں 430 سے زائد مسافر سوار تھے۔
ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں نے ٹرین پر حملے کے دوران شدید فائرنگ کی، فائرنگ کے واقعے سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ دہشت گردوں کی فائرنگ سے ٹرین ڈرائیور جاں بحق ہوا۔
ریلوے ذرائع کے مطابق جعفرایکسپریس میں اکانومی کلاس میں 235 مسافروں کی ریزرویشن تھی۔ اے سی ایل میں 41 اور اے سی بی میں 24 مسافر تھے جبکہ اے سی سلیپر میں 6 مسافر سوار تھے۔
محکمہ ریلوے کے ترجمان شاہد رند کے مطابق کراچی سے کوئٹہ آنے والی بولان میل اورپشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس کو سبی پر روک دیا گیا تھا اور سبی اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔
بازیاب کرائے گئےمسافروں میں سے 80 افراد کو مچھ منتقل کردیا گیا ہے، انھیں مچھ سے کوئٹہ منتقل کیا جائے گا، مسافروں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ مسافروں کو مال بردار ٹرین کے ذریعے مچھ پہنچایا گیا۔
حکومت کی جانب سے باقی مسافروں کیلئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جا رہا ہے، مچھ میں مسافروں کو طبی امداد اور خوراک دینے کے بعد ایف سی سیکیورٹی کی نگرانی میں کوئٹہ منتقل کیا جائے گا۔
دہشتگرد کے افغانستان میں ماسٹرمائنڈ سے رابطے
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر حملے کے دہشتگرد افغانستان میں اپنے ماسٹر مائنڈ سے رابطے میں ہیں۔ ٹرین حملے کے بعد سے بھارتی اور ملک دشمن سوشل میڈیا غیر معمولی طور پر متحرک ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پروپیگنڈا اور فیک نیوز پھیلانے میں پرانی ویڈیوز، اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز، پرانی تصاویر، فیک وٹس ایپ پیغامات اور پوسٹرز کے ذریعے ہیجان پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بیرون ملک خود ساختہ بھگوڑے بلوچ رہنماؤں کے تجزیے دکھا کر لوگوں کو گمراہ کرنے میں مصروف ہے۔
سییکیورٹی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہشت گردوں کا معصوم مسافروں کو نشانہ بنانا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ان دہشت گردوں کا دین اسلام، پاکستان اور بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بیان میں کہا کہ جعفر ایکسپریس پر حملہ بزدلانہ دہشت گردی ہے، حملہ آوروں کو عبرتناک انجام تک پہنچائیں گے۔ خون بہانے والوں کو زمین پر جگہ نہیں ملے گی، دہشت گردوں کا مکمل صفایا کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی نے کہا کہ دشمن سن لے! بلوچستان میں ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں کو نیست و نابود کر دیا جائے گا، ریاست پر حملہ ناقابلِ برداشت، قاتلوں کو چن چن کر ماریں گے۔ عوام خوفزدہ نہ ہوں، دشمنوں کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
انھوں نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے تعاقب میں ہیں، بچ کر کوئی نہیں جائے گا، علاقے میں سیکیورٹی فورسز کا سرچ آپریشن جاری ہے، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا۔ پوری قوم اپنی بہادر فورسز کے ساتھ کھڑی ہے، دہشت گردوں کی مکمل بیخ کنی کریں گے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی نے بیان میں کہا کہ جعفر ایکسپریس پر حملہ قومی سلامتی پر حملہ ہے، بھرپور جواب دیا جائے گا، بلوچستان میں دہشت گردوں کی کوئی جگہ نہیں، قومی یکجہتی سے دشمنوں کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیں گے۔
ایرانی سفارتخانہ کی مذمت
جعفر ایکسپریس پر دہشت گردی کے واقعے پر ایران کی جانب سے شدید مذمت کرتے ہوئے ایرانی سفارت خانے نے کہا کہ بلوچستان میں ٹرین مسافروں کے خلاف دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں، بچوں، خواتین اور بزرگوں کو یرغمال بنایا گیا۔
ایرانی سفارت خانہ نے مذمتی بیان میں کہا کہ ٹرانسپورٹیشن سسٹم کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف بزدلانہ جرم ہے۔
مشیروزیراعظم رانا ثنااللہ
جعفر ایکسپریس پر دہشتگردی کے واقعے پر مشیروزیراعظم رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ جو کچھ ممکن ہے، سیکیورٹی فورسز وہ کررہی ہیں، آرمی چیف کو آپریشن سے لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھا جارہا ہے۔
مریم نواز
وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بیان میں تمام مسافروں کی بخریت واپسی کی دعا کی۔
وزیراعلی پنجاب نے اپنے بیان میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن پرسیکیورٹی فورسزکوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ نہتے مسافروں پر حملہ کرنے والے انسانیت سے عاری ہیں۔ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ہر مسافر کی خیریت کیلئے دعاگو ہوں۔
شرجیل میمن
سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے بلوچستان کے علاقے بولان میں جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ایسے واقعات ہمارے قومی عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔
سینئر وزیر سندھ نے کہا کہ دہشتگرد کارروائی ملک دشمن عناصر کی بزدلانہ کوشش ہے، دہشتگرد پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں، ملک دشمن عناصر ملک میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں۔
شرجیل میمن نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشت گرد کسی بھی قیمت پر کامیاب نہیں ہونگے، بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، پوری قوم متحد ہو کر ان عناصر کے خلاف کھڑی ہے۔