ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں نے رواں ماہ یمن پر امریکی فضائی حملوں کے حوالے سے نہ صرف جنگی جرائم کا اعتراف کیا بلکہ اس پر خوشی کا اظہار بھی کیا ہے۔ یہ دعویٰ ”ٹروتھ آؤٹ“ نامی ایک ادارے کی رپورٹ میں کیا گیا، جس نے ”دی اٹلانٹک“ میں شائع لیک شدہ پیغامات کی رپورٹ کا حوالہ دیا۔
رپورٹ کے مطابق ایک امریکی رکن کانگریس اور پالیسی ماہرین نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیک ہونے والے نئے پیغامات اس حقیقت کو ثابت کرتے ہیں۔
بدھ کے روز ”دی اٹلانٹک“ کے صحافی جیفری گولڈ برگ نے ایک مکمل گروپ چیٹ شائع کی جس میں اعلیٰ سطحی امریکی حکام نے یمن پر امریکی حملوں پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
اس سے قبل پیر کو اسی حوالے سے کچھ تفصیلات دی گئی تھیں۔
اس انکشاف کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے دعویٰ کیا کہ اس چیٹ میں کوئی خفیہ معلومات شیئر نہیں کی گئی تھیں، حالانکہ لیک شدہ پیغامات واضح طور پر اعلیٰ سطحی جنگی منصوبہ بندی کی تفصیلات ظاہر کرتے ہیں۔
فلوریڈا سے ڈیموکریٹ رکن کانگریس میکسویل فراسٹ نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پر کہا، ’یہ سب کا سب انتہائی گھناؤنا ہے، اور سب سے شرمناک بات یہ ہے کہ ایک کھلے عام جنگی جرم کا ثبوت موجود ہے۔
آسٹریلوی رکن پارلیمنٹ غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری پر بات کرتے ہوئے روپڑیں
امریکی مشیروں کا شرمناک ردعمل
لیک ہونے والے پیغامات کے مطابق، جب امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں ایک عمارت تباہ ہوئی جہاں مبینہ طور پر ایک حوثی کمانڈر موجود تھا، تو قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز نے اسے ”حیرت انگیز“ قرار دیا۔
والٹز نے کہا، ’ہمارا پہلا ہدف، ان کا اہم میزائل ماہر، ہمیں اس کی تصدیق ہو گئی تھی کہ وہ اپنی محبوبہ کی عمارت میں داخل ہو رہا تھا اور اب وہ عمارت ملبے کا ڈھیر بن چکی ہے۔‘
اس پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جواب دیا، ’بہت عمدہ‘۔
سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے کہا، ’اچھا آغاز ہے‘۔
اس کے بعد والٹز نے مکا، امریکی پرچم اور آگ کے ایموجیز بھیجے۔
یمن میں ہلاکتیں اور جنگی جرائم کے الزامات
یمن ڈیٹا پروجیکٹ کے مطابق، اس پہلے فضائی حملے میں کم از کم 13 شہری جاں بحق اور 9 زخمی ہوئے۔ یہ حملہ 15 مارچ کی رات دارالحکومت صنعاء کے شمال میں کیا گیا تھا۔ یہی وہ حملہ تھا جسے امریکی نائب صدر نے ”بہت عمدہ“ اور والٹز نے ”حیرت انگیز“ کہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی پالیسی مرکز کے نائب صدر ڈیلن ولیمز نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’یہ پیغامات کم از کم ایک جنگی جرم کے واضح ثبوت ہیں، جسے انجام دینے والے خود اس پر خوش ہو رہے ہیں۔‘
بین الاقوامی قانون کے مطابق، کسی بھی جنگ میں شہریوں کو براہ راست نشانہ بنانا ممنوع ہے، اور فوجی ہدف کو نشانہ بناتے ہوئے شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے سے بھی گریز کرنا لازم ہے۔
حوثی حکام نے حالیہ امریکی حملوں کو کھلی جارحیت اور جنگی جرم قرار دیا ہے، جبکہ ترقی پسند امریکی قانون سازوں نے نشاندہی کی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر یمن پر امریکی حملے غیر آئینی ہیں۔
امریکی دباؤ کے خلاف طاقت کا مظاہرہ، ایران نے اپنے نئے ’زیر زمین میزائلوں کے شہر‘ کی ویڈیو جاری کردی
امریکہ کی وحشیانہ بمباری: اسپتالوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا
حالیہ حملوں میں حوثیوں نے امریکی حملوں میں پندرہ فوجی افسران سمیت سولہ جنگجوؤں کی شہادت کا اعتراف کیا ہے، دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثیوں پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
15 اور 16 مارچ کے درمیان، امریکہ نے یمن میں 47 سے زائد فضائی حملے کیے۔ یمنیوں نے متعدد رہائشی عمارتوں پر حملوں کی اطلاع دی۔ الجزیرہ کے مطابق، امریکی حملے میں صوبہ اِب میں دو رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ صنعاء میں ایک اور حملے میں مزید 15 جاں بحق ہوئے۔
ان حملوں میں مجموعی طور پر 53 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں کم از کم 25 شہری شامل تھے۔ یمنی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان میں چار بچے بھی شامل ہیں، جبکہ مجموعی شہری ہلاکتوں کی تعداد 30 سے زائد ہو سکتی ہے۔
یمن ڈیٹا پروجیکٹ کے مطابق، زیادہ تر امریکی حملے شہری علاقوں پر کیے گئے۔ ایک حملہ حال ہی میں تعمیر کیے گئے کینسر اسپتال پر کیا گیا، جسے رواں ہفتے دوبارہ نشانہ بنایا گیا۔
”ڈراپ سائٹ“ نامی تحقیقاتی صحافتی ادارے نے رپورٹ کیا کہ اسپتال پر بمباری کے بعد وہاں افراتفری پھیل گئی، بچے چیخ و پکار کر رہے تھے، جبکہ کچھ معصوم متاثرین کی لاشیں اس حد تک جھلس گئی تھیں کہ انہیں پہچاننا مشکل تھا۔