6

آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس: آغا سراج درانی کی درخواست ضمانت مسترد

سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی

سندھ ہائی کورٹ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی سمیت 8 ملزمان کی درخواستِ ضمانت مسترد کردی۔

آغا سراج درانی کے خلاف درخواست ضمانت پر عدالت عالیہ کے جسٹس ندیم اختر اور جسٹس اقبال کلہوڑو پر مشتمل خصوصی بینچ نے درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

عدالت نے آج درخواست ضمانت کا فیصلہ 11 بجے سنانے کا وقت مقرر کیا تھا تاہم مقررہ وقت پر آغا سراج درانی سمیت کوئی بھی ملزم عدالت نہیں پہنچا جس پر عدالت نے ملزمان کی غیر موجودگی میں فیصلہ سنایا۔

کیس کے ملزمان میں آغا سراج درانی، ان کی اہلیہ اور بیٹے سمیت 18 ملزمان شامل ہیں جن میں سے 8 ملزمان کی درخواست مسترد کی گئی جبکہ آغا سراج درانی کی اہلیہ اور بیٹوں کی ضمانت منظور کرلی گئی۔

واضح رہے کہ آغا سراج درانی سمیت تمام ملزمان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس احتساب عدالت میں زیر سماعت ہے۔

نیب ریفرنس میں آغا سراج درانی کی اہلیہ اور بیٹیوں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال مارچ میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے آغا سراج درانی کی ضمانت کے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس دوبارہ ہائی کورٹ بھیج دیا تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ تمام ملزمان کی ضمانت برقرار رہے گی اور سراج درانی سمیت دیگر ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاسکے گا جبکہ فیصلے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

عدالت نے ہدایت کی کہ سندھ ہائی کورٹ کے سینئر ڈویژن بینچز نیب مقدمات کی سماعت کریں اور حقائق کا دوبارہ جائزہ لے کر 2 ماہ میں فیصلہ کرے۔

آغا سراج درانی پر الزامات

خیال رہے کہ نیب نے آغا سراج درانی، ان کی اہلیہ، بچوں، بھائی اور دیگر پر مبینہ طور پر غیر قانونی طریقوں سے بنائے گئے ایک ارب 61 کروڑ روپے کے اثاثے رکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔

اسپیکر سندھ اسمبلی کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے مبینہ طور پر معلوم آمدن سے زائد منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے بنانے کی تحقیقات کے سلسلے میں فروری 2019 میں اسلام آباد کی ایک ہوٹل سے گرفتار بھی کیا تھا۔

بعدازاں 21 فروری کو انہیں کراچی کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے ان کا ریمانڈ منظور کیا اور اس میں کئی مرتبہ توسیع ہوئی۔

تاہم 13 دسمبر کو سندھ ہائی کورٹ نے ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض آغا سراج درانی کی ضمانت منظور کرلی تھی تاہم اگلے ہی روز ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

عدالت نے آغا سراج درانی کی گرفتاری پر نیب کے اقدام پر سوال اٹھایا اور اسپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری اور ان کے گھر کی تلاشی کو بلاجواز قرار دیا تھا۔

علاوہ ازیں احتساب عدالت میں آغا سراج درانی اور اہلخانہ سمیت دیگر 18 افراد کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق ریفرنس بھی دائر ہے جس میں گزشتہ برس 30 نومبر کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں