ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا افغان دہشت گرد نیٹ ورک کے حوالے سے جواب دینے سے گریز

0 minutes, 0 seconds Read

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا ہفتہ وار پریس بریفنگ میں افغان دہشت گرد نیٹ ورک کے حوالے سے جواب دینے سے گریز۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی برُوس نے ہفتہ وار پریسافغانستان سے سرگرم دہشت گرد نیٹ ورک کے حوالے سے پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی کارروائیوں پر براہ راست جواب دینے سے گریز کیا۔

پاکستان کے صحافی جہانزیب علی نے ایک پریس بریفنگ کے دوران سوال کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں اور گروہ جیسے ٹی ٹی پی، القاعدہ، اور داعش طالبان کے زیر انتظام افغانستان سے کام کر رہے ہیں۔

امریکی ویزا کے جائزے کا عمل مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن آج نہیں، ترجمان محکمہ خارجہ

انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ پاکستان، جو ایک شراکت دار ملک ہے، نے حالیہ مہینوں میں سیکڑوں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جانیں گنوائیں اور ایک انتہائی مطلوب دہشت گرد کو امریکی حکام کے حوالے کیا۔

جواب میں، ٹیمی برُوس نے ”کچھ مسائل، انسانی حقوق کے مسائل، وغیرہ“ کے بارے میں آگاہی کا اعتراف کیا، لیکن اس پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا، ”ہم ایک سیریز میں ہیں اور میں اس پر مزید کچھ کہنا نہیں چاہتی۔ تو میں اس کو واپس لوں گی۔“

امریکا بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے، امریکی محکمہ خارجہ

اس کے بعد انہوں نے بریفنگ کا دھیان حزب اللہ پر امریکی پابندیوں کی طرف موڑ دیا اور کہا کہ وہ اس موضوع پر بات کرنا چاہتی ہیں۔

یہ تبادلہ خیال کا حصہ

سوال: “گزشتہ چند ماہ میں پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ سیکڑوں شہری اور سیکیورٹی اہلکار اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ اور پاکستان، جو ایک شراکت دار ملک ہے، نے حالیہ طور پر انتہائی مطلوب دہشت گرد کو امریکی حکام کے حوالے کیا ہے۔

یہ تمام دہشت گرد نیٹ ورک افغانستان میں طالبان کے تحت کام کر رہے ہیں جیسے ٹی ٹی پی، القاعدہ، اور داعش۔ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ تو امریکہ اس صورتحال کو کیسے دیکھتا ہے، جب یہ تمام دہشت گرد نیٹ ورک طالبان کے زیر سایہ کام کر رہے ہیں؟“

امریکی محکمہ خارجہ کے انڈر سیکرٹری جان باس آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کریں گے

جواب: ”یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس میں ہم کچھ مسائل، انسانی حقوق کے مسائل، وغیرہ سے آگاہ ہیں۔ لیکن دوبارہ، یہ ایک سلسلہ ہے اور میں اس پر مزید کچھ کہنا نہیں چاہتی۔ تو میں اس کو واپس لوں گی۔ اگر آپ براہ کرم اجازت دیں تو ہم آگے بڑھیں گے۔“

سوال: “لیکن پھر بھی؟ “

جواب: ”جو میں اس وقت بات کرنا چاہتی ہوں، وہ یہ ہے کہ میں حزب اللہ پر پابندیوں کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ میں سے کئی افراد اس میں دلچسپی رکھتے ہوں گے۔ تو آئیے، ہم آگے بڑھتے ہیں۔ میں آپ کے سوالات کی سمت متعین نہیں کرنا چاہتی۔“

Similar Posts