بھارت کی ہم جنس پرست معروف اسٹینڈ اپ کامیڈین سواتی سچدیوا کو اپنا ایک کلپ وائرل ہونے کے بعد شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اس کلپ جس میں وہ اپنے والدین کے حوالے سے ایک انتہائی غیراخلاقی لطیفہ سناتی نظر آئیں۔ جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین اس پر بحث کر رہے ہیں کہ کیا مزاح کی کوئی حد ہونی چاہیے، خاص طور پر جب اس میں والدین کا ذکر کیا جائے؟
یہ کلپ سواتی کی آٹھ دن قبل اپ لوڈ کی گئی ایک ویڈیو سے لیا گیا ہے، جس میں وہ بتاتی ہیں کہ کس طرح ان کی والدہ، جو ”کول ماں“ بننے کی کوشش کر رہی تھیں ان کا کچھ متنازع سامان پکڑے جانے پر آپا کھو بیٹھیں۔
یہ ویڈیو ”فیملی فرسٹ“ نامی قسط کا حصہ ہے، جس میں سواتی مختلف موضوعات پر مزاحیہ گفتگو کرتی ہیں۔ ویڈیو کی تفصیل میں انہوں نے ایک انتباہ بھی دیا کہ اس میں بعض اوقات سخت زبان اور بالغ مزاح شامل ہے، اور ناظرین کو صوابدیدی احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
انڈیاز گوٹ لیٹنٹ تنازع نے ذہنی صحت اور کینیڈا کے دورے کو متاثر کیا، سمے رائنا کا انکشاف
تاہم، انٹرنیٹ پر بہت سے لوگ اس نوعیت کے مزاح پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
ایک صارف نے لکھا، ’یہی کامیڈی رہ گئی ہے؟ بس فحش اور سطحی لطیفے؟‘
ایک اور نے تبصرہ کیا، ’اگر رنویر اور سمے رائنا پر ان کے لطیفوں کی وجہ سے قانونی کارروائی ہو سکتی ہے، تو کیا سواتی بھی اس کی زد میں آئیں گی؟‘
ایک صارف نے لکھا، ’شاید یہ سب سے زیادہ شرمناک اسٹینڈ اپ ’کامیڈی‘ ہے، جو آپ نے دیکھی ہوگی۔‘
ایک اور صارف نے تنقید کرتے ہوئے کہا، ’کامیڈی کے نام پر اب والدین کو بھی نہیں بخشا جا رہا۔ رنویر الہ آبادیہ اور سمے رائنا کے بعد اب سواتی سچدیوا! انتہائی افسوسناک۔‘
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوٹیوبرز رنویر الٰہ آبادیہ اور سمے رائنا کو بھی فحش مواد کے الزامات کا سامنا ہے۔ حال ہی میں، مہاراشٹرا سائبر پولیس نے سمے رائنا سے ان کے ایک ویڈیو کلپ کے حوالے سے پوچھ گچھ کی تھی، جس میں ایک متنازع جملہ شامل تھا۔
انتہا پسندوں کا خوف یا مودی کی خوشنودی؟ سلمان خان نے ’رام مندر‘ والی گھڑی پہن لی
یہ سب اس وقت شروع ہوا جب رنویر الہٰ آبادیہ کا ایک کلپ وائرل ہوا، جس میں وہ سمے رائنا کے یوٹیوب شو ”انڈیاز گاٹ لیٹنٹ“ میں ایک متنازع سوال پوچھتے نظر آئے۔ اس پر شو کی ٹیم کے خلاف متعدد شکایات درج ہوئیں، جس کے بعد رنویر اور سمے کو معافی مانگنی پڑی۔
یہ واقعہ ایک بڑے سوال کو پھر سے زندہ کر رہا ہے کہ کیا مزاح کی کوئی حدود ہونی چاہئیں، یا کامیڈینز کو مکمل آزادی حاصل ہونی چاہیے؟