اسرائیل کا آج بھی فلسطینیوں پر ظلم و بربریت کا سلسلہ جاری ہے، غزہ سیز فائر معاہدے کے بعد مغربی کنارے سے 40 ہزار فلسطینیوں کو بے دخل کر کے ان کے گھروں کو مسمار کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی بڑے پیمانے پر ٹینکوں کے ذریعے مغربی کنارے پر مداخلت جاری ہے، ساتھ ہی اسرائیلی فوج کی جانب سے فضائی حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
اسرائیلی افواج نے پچھلے 17 مہینوں میں مغربی کنارے میں 900 فلطینیوں کو شہید کرنے کے ساتھ جنین اور طولکرم کے آدھے حصے پر قبضہ جما لیا ہے۔
اسرائیلی فوج کی غزہ پر بمباری جاری، مزید 24 فلسطینی شہید ہوگئے
رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے اسرائیل کی ان کارروائیوں کو سفاکانہ قرار دیا ہے۔
شمالی مغربی کنارہ ہی نشانہ کیوں ؟
اسرائیل کی جانب سے آپریشن آئرن وال میں جنین اور طولکرم کے علاقوں میں مداخلت خاص طور پر شامل ہے، مغربی کنارے کے دوسرے علاقوں کے مقابلے میں یہ علاقے مزاحمت کا گڑھ ہیں اور یہاں اسرائیلی آباد کاروں کی سب سے کم بستیاں موجود ہیں، اسرائیل نے منظم چھاپوں اور بلڈوز کرنے کی کارروائیوں سے ان علاقوں میں مزاحمت کو دبانے کی کوشش کی ہے۔