گجرات کے قصائی ’مودی‘ کے خوف نے ایک اور بھارتی فلم کو تبدیلی پر مجبور کردیا

0 minutes, 0 seconds Read

گجرات کے قصائی نریندرا مودی کے خوف نے ایک اور بھارتی فلم کو تبدیلی پر مجبور کردیا ہے۔ ملیالم فلم ”ایل 2: ایمپرآن“ کے گرد پیدا ہونے والے تنازع پر اداکار موہن لال کا بیان سامنے آگیا ہے۔ یہ فلم 2002 کے گجرات فسادات کی طرف اشارہ کرنے پر تنازع کا شکار ہوئی ہے۔ اداکار نے ناظرین کو ”پریشانی“ پہنچانے پر معذرت کر لی ہے۔

اپنے بیان میں موہن لال نے کہا، ’مجھے معلوم ہے کہ فلم ”ایمپرآن“ میں شامل بعض سیاسی اور سماجی موضوعات نے میرے کئی چاہنے والوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کیا ہے۔ بطور فنکار میری ذمہ داری ہے کہ میری کوئی بھی فلم کسی سیاسی تحریک، نظریے یا مذہبی گروہ کے خلاف نہ ہو۔ لہٰذا، میں اور ایمپرآن ٹیم اس پریشانی پر مخلصانہ معذرت خواہ ہیں، اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ فلم سے ایسے تمام موضوعات ہٹا دیے جائیں گے۔‘

دیوانوں کی کمی نہیں، ایک مداح نےفلم ’سکندر‘ کے ایک لاکھ 72 ہزار کے ٹکٹ خرید کر بانٹ دیئے

انہوں نے مزید کہا، ’میں چالیس سال سے اپنی فلمی زندگی آپ سب کے درمیان گزار رہا ہوں۔ آپ کی محبت اور بھروسہ میری واحد طاقت ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بڑا کوئی موہن لال نہیں ہو سکتا… محبت کے ساتھ، موہن لال۔‘

فلم پر تنازع کے دوران کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین نے بھی فلم کی ایک اسکریننگ میں شرکت کی اور ایمپرآن ٹیم کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کو ہر صورت میں محفوظ رکھا جانا چاہیے۔

فحش ریمارکس تنازع کے بعد رنویر کی یوٹیوب پر واپسی

وجین نے کہا، ’ایک جمہوری معاشرے میں شہری کے اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ فن اور فنکاروں کو ختم کرنے یا پابند کرنے کی پرتشدد آوازیں فسطائی سوچ کی تازہ ترین مثال ہیں۔ یہ جمہوری حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ فلم بنانے، دیکھنے، لطف اندوز ہونے، اس پر رائے دینے، اتفاق یا اختلاف کرنے جیسے تمام حقوق ضائع نہیں ہونے چاہئیں۔ اس کے لیے اس ملک کی مشترکہ آواز بلند ہونی چاہیے جو جمہوری اور سیکولر اقدار پر مبنی ہے۔‘

فلم ”ایمپرآن“ جس میں پرتھوی راج، ابھیمنیو سنگھ اور منجو واریئر نے بھی کردار ادا کیے ہیں، جو 27 مارچ کو سینما گھروں میں ریلیز ہوئی۔

Similar Posts