سہیل آفریدی نے ذاتی فائدے کے لیے مذاکرات کامیاب ہونے نہیں دیے: وزیرِ مملکت

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات میں اپوزیشن بہت سے حقائق پر پردہ ڈال رہی ہے اور انہوں نے جان بوجھ کر اس اہم عمل کو نتیجہ خیز نہیں بننے دیا۔

طلال چوہدری نے منگل کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ مذاکرات کے بالکل آخری لمحات میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے جان بوجھ کر نئی شرائط سامنے لائی گئیں، جبکہ اس سے قبل دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے اور دیگر اہم سیاسی معاملات پر فریقین کے درمیان مکمل اتفاقِ رائے قائم ہو چکا تھا۔

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے پہلے روز وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دہشت گردی سے متعلق حکومت کا موقف پیش کیا تھا اور خیبرپختونخوا حکومت کو نیشنل ایکشن پلان پر تعاون اور انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات سے متعلق اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا گیا تھا۔

وزیرِ مملکت نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران خیبرپختونخوا حکومت کی دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں عدم دلچسپی رہی ہے اور صوبائی حکومت نے سیکیورٹی فورسز سے کیے گئے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔

انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے پہلے روز ہی بنیادی معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق ہو گیا تھا اور اپوزیشن رہنماؤں نے پشاور جا کر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور اپنی قیادت سے ملاقات کے بعد تمام نکات پر سو فیصد اتفاق کی یقین دہانی کرائی تھی۔

طلال چوہدری کے مطابق وزیرِ داخلہ نے اس پیش رفت سے وزیراعظم کو بھی آگاہ کیا تھا اور بعد ازاں وہ خود لاہور جا کر وزیراعظم سے ملے اور دہشت گردی کے حوالے سے طے پانے والے نکات پر ٹویٹ بھی کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے ڈرافٹ میں پی ٹی آئی کے بانی کی صحت، ملاقاتوں اور ان کے رہنماؤں کے مقدمات سمیت تمام سیاسی معاملات شامل کیے گئے تھے اور رات نو بجے ڈرافٹ فائنل ہونے پر وزیرِ داخلہ صدر اور وزیراعظم کو آگاہ کرنے گئے تھے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت سمجھ رہی تھی کہ میثاقِ جمہوریت کی جانب ایک بڑا بریک تھرو ہونے جا رہا ہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف متفقہ بیانیے پر اپوزیشن کو ساتھ لانا ملک کے لیے بڑی کامیابی تھی، خواہ اس کا سیاسی فائدہ اپوزیشن کو ہی کیوں نہ ملتا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ مذاکرات کے آخری مرحلے میں اپوزیشن رہنماؤں نے الگ کمرے میں بیٹھ کر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے دوبارہ رابطہ کیا اور جب وہ باہر آئے تو وہ حکومتی نمائندوں سے نظریں ملانے کی پوزیشن میں نہیں تھے اور بالآخر اتفاق نہ ہونے پر حکومت کا شکریہ ادا کر کے چلے گئے۔

وزیرِ مملکت نے واضح کیا کہ ملکی سلامتی اور نیشنل ایکشن پلان پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں ہو سکتا، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل روزانہ شہداء کے جنازوں کو کندھا دیتے ہیں اور حکومت پچیس کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی امن و امان کی جنگ لڑ رہی ہے۔

خیبرپختونخوا کی صورتحال اور احتجاجی مارچز پر بات کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ اگر صوبے میں صرف ایک پارٹی کے لیے سیاسی سرگرمیاں محفوظ ہوں اور باقی شہری خوف محسوس کریں تو یہ ناقابلِ قبول ہے۔

سیکیورٹی فورسز پر سرحد پار سے ہونے والے حملوں اور ڈرونز کے استعمال پر ردِعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فورسز کی حفاظت کے لیے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی لازم ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اس بار جو مارچ نکالا گیا ہے اس کے بعد آئندہ ایسا کوئی مارچ نہیں ہوگا کیونکہ حکومت نے اس سے نمٹنے کے لیے سیاسی اور آئینی سمیت تمام تر تدابیر مکمل کر لی ہیں۔

Related posts