پی ٹی آئی لانگ مارچ: اٹک حکومتی توجہ کا مرکز کیوں بنا ہوا ہے؟

خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع سے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے آغاز کے بعد پنجاب انتظامیہ نے مظاہرین کو پنجاب کی حدود اور وفاقی دارالحکومت میں داخلے سے روکنے کے لیے ضلع اٹک کو سیکیورٹی کا بنیادی مرکز بنا دیا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے گزشتہ روز قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ہم اٹک کے پُل پر اُن (پی ٹی آئی) کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ آئیں لشکر لے کر“۔

اسی ضمن میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کو زمینی راستے سے جوڑنے والے اس اہم سرحدی ضلع میں سیکیورٹی کی چار تہیں قائم کی گئی ہیں جن میں پنجاب پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز بھی شامل ہے۔

اگر پی ٹی آئی کے مظاہرین خیبرپختونخوا کی حدود سے نکل کر اسلام آباد کی طرف بڑھنے کا ارادہ کرتے ہیں تو انہیں بظاہر پنجاب کے سرحدی ضلع اٹک کے مقام پر ہی بھرپور انداز میں روکنے کا مکمل منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کے مارچ کو روکنے کے لیے اٹک اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کے باعث اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ علاقہ صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے درمیان ایک اہم اور بنیادی زمینی رابطہ فراہم کرتا ہے۔

اگر مظاہرین خیبرپختونخوا سے اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کا ارادہ رکھتے ہیں تو اٹک کے راستے، دریا پر بنے پل اور اہم شاہراہیں اس پورے قافلے کی رفتار اور نقل و حرکت کو براہِ راست متاثر کر سکتی ہیں۔

تاہم، اٹک کو لانگ مارچ کو روکنے کے لیے واحد یا بالکل لازمی راستہ سمجھنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ قافلے کے انتخاب، حکومت کی حکمتِ عملی اور متبادل سڑکوں کی دستیابی بھی اس پیش قدمی میں برابر کی اہمیت رکھتی ہے۔

ضلع اٹک کو سیکیورٹی کے لحاظ سے اہم بنانے والے پانچ بنیادی جغرافیائی اور انتظامی پہلو ہیں۔

ان میں سب سے پہلا نقطہ دریائے سندھ پر واقع تاریخی اٹک پل ہے جو جی ٹی روڈ کے ذریعے خیبرپختونخوا اور پنجاب کو ملاتا ہے۔ اس مقام پر رکاوٹیں کھڑی کرنے سے پشاور کی جانب سے آنے والے تمام تر قافلوں کی پیش قدمی سست ہو جاتی ہے۔

دوسرا بڑا پہلو جی ٹی روڈ یعنی این فائیو کا وہ حصہ ہے جو اٹک خورد کے مقام پر آتا ہے، جہاں کنٹینرز یا فورسز کی تعیناتی سے راولپنڈی کی طرف بڑھنے والے مظاہرین کو روکا جا سکتا ہے۔

تیسرا اہم نقطہ ایم ون موٹروے کا چچ انٹرچینج ہے، کیونکہ موٹروے پشاور اور اسلام آباد کے درمیان سب سے تیز رفتار راستہ ہے اور اس انٹرچینج کی بندش سے سڑک کا استعمال ناممکن ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ہارون پل اور دیگر مقامی رابطے کے پل بھی سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے انتہائی اہم شمار ہوتے ہیں جہاں الگ سے پہرہ دینا پڑتا ہے۔

آخری اہم پہلو یہ ہے کہ اٹک وفاقی دارالحکومت میں داخل ہونے سے پہلے آخری پڑاؤ کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی بندش سے قافلے کی رفتار کم کی جا سکتی ہے۔ تاہم، متبادل راستوں کی وجہ سے محض اس ایک ضلع کی بندش سے مارچ کو مکمل طور پر روکنے کی سو فیصد ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

گزشتہ ماہ پی ٹی آئی کے مارچ کے اعلان پر حکومت نے جی ٹی روڈ، ایم ون اور ایم 14 سمیت تمام بنیادی شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کی تھیں اور اٹک خورد، اٹک پل، ہارون پل اور چچ انٹرچینج پر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے تھے۔

مارچ کے پیشِ نظر بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں اور کنٹینرز کی تعیناتی

حساس علاقوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اس وقت راولپنڈی، اٹک اور اسلام آباد میں مجموعی طور پر تقریباً 30 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے جا چکے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ امن و امان کے مسئلے سے نمٹا جا سکے۔

تعینات کی گئی فورس کا بڑا حصہ پنجاب پولیس پر مشتمل ہے جس کے 25 ہزار سے زائد اہلکار اور افسران سرحدی راستوں اور اہم شاہراہوں پر الرٹ ہیں۔

علاوہ ازیں، اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق سندھ پولیس کے بھی تقریباً دو ہزار اہلکار اس وقت وفاقی دارالحکومت میں خصوصی سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور کیے گئے ہیں تاکہ اسلام آباد کی حساس عمارتوں اور داخلی راستوں کی مکمل نگرانی کی جا سکے۔

اس وسیع تر نفری کی موجودگی کے باوجود وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے پنجاب پولیس سے مزید 10 ہزار اہلکاروں کی اضافی نفری بھی طلب کر رکھی ہے، جو فی الحال اسلام آباد نہیں پہنچی ہے۔

اسلام آباد پولیس کے حکام کے مطابق پنجاب پولیس سے طلب کی گئی یہ اضافی نفری ابتدائی روڈ میپ کے تحت 27 ستمبر سے قبل اسلام آباد پہنچنا تھی، تاہم پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے لانگ مارچ میں ایک ہفتے کی تاخیر کے اعلان کے بعد اس اضافے کو فی الوقت روک دیا گیا تھا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال کا روزانہ کی بنیاد پر باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور آئندہ کی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہی مزید فورس طلب کرنے کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

اس صورتحال کے درمیان پنجاب کا ضلع اٹک خصوصی توجہ کا مرکز ہے جہاں ضلع کی اپنی پولیس کے علاوہ بڑی تعداد میں دیگر صوبوں کے پولیس افسران اور اہلکاروں کو بھی سیکیورٹی ڈیوٹی کے لیے پہنچایا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق خیبرپختونخوا کے شہروں کو پنجاب سے ملانے والے راستے کھلے ہیں تاہم کنٹینرز کی مدد سے گزرگاہوں کو تنگ کر دیا گیا ہے تاکہ گاڑیوں کی آمد و رفت محدود رہے اور امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈلاک کے بعد شروع ہونے والے اس مارچ کی تازہ ترین صورتحال سے متعلق صوبائی وزیرِ اطلاعات شفیع جان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بتایا تھا کہ پیر کو لانگ مارچ کے قافلے کرک سے کوہاٹ روانہ ہوئے اور منگل کو دن بارہ بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع کے لوگ شامل ہو کر پشاور کی جانب بڑھیں گے۔

اگرچہ سیاسی گفتگو اور مذاکرات کا امکان تاحل موجود ہے، تاہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اٹک، راولپنڈی اور اسلام آباد میں اپنے حفاظتی انتظامات میں کوئی نرمی نہیں کی ہے۔

راولپنڈی ریجنل پولیس آفیسر کی زیرِ نگرانی اٹک میں پنجاب کے چھبیس اضلاع سے بلائے گئے بیس ہزار سے زائد اہلکار موجود ہیں جن کی قیادت چھ ڈی آئی جی اور تقریباً 200 ایس پی و ڈی ایس پی سطح کے افسران کر رہے ہیں۔

اس بڑی نفری کو 60 سے زائد سرکاری اسکولوں، ہیلتھ سینٹرز اور عمارتوں میں ٹھہرایا گیا ہے جس کی وجہ سے ان تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا عمل وقتی طور پر معطل ہے۔

آر پی او راولپنڈی کے ترجمان سردار نثار کا کہنا ہے کہاٹک میں تعینات اہلکاروں کا خصوصی خیال رکھا جا رہا ہے اور ان کے کھانے پینے کے انتظامات مختلف ٹھیکیداروں کے سپرد کیے گئے ہیں جبکہ کھانے کے معیار کی نگرانی کے لیے خصوصی مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر کوالٹی کو چیک کرتی ہیں۔

سڑکوں کی بندش اور رکاوٹوں کی وجہ سے کاروباری اور عومی نقل و حرکت پر بھی اثر پڑا ہے۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری اویس کا کہنا ہے کہ ہم نے لانگ مارچ میں تاخیر کے بعد اسلام آباد انتظامیہ سے رابطہ کیا تھا تاکہ سامان سے بھرے کنٹینرز کو عارضی طور پر واپس لیا جا سکے اور ٹرانسپورٹ کا کاروبار بحال ہو سکے، مگر ضلعی انتظامیہ نے یہ درخواست مسترد کر دی ہے۔

اٹک کے گرد و نواح بشمول حسن ابدال، صوابی انٹرچینج، ہزارہ موٹروے اور خوشحال گڑھ روٹس پر سیکیورٹی کے سخت پہرے بدستور قائم ہیں اور صورتحال پر مکمل نظر رکھی جا رہی ہے۔

Related posts