کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں واقع فتح محمد گبول گوٹھ میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔ پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت ظہیر الدین کے نام سے ہوئی، جو قانون نافذ کرنے والے ادارے سے وابستہ تھا۔
مقتول کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ظہیر الدین کو ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل کیا گیا۔
ان کے مطابق، مقتول سال 2023 میں سندھ رینجرز میں بھرتی ہوا تھا اور چھ بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھا۔ مقتول کی ایک سال قبل شادی ہوئی تھی اور واقعے کے وقت وہ اپنے گھر کے قریب ایک دکان کے باہر بیٹھا ہوا تھا، جب مسلح ڈاکوؤں نے اسے نشانہ بنایا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ ذاتی دشمنی کا نہیں بلکہ لوٹ مار کا نتیجہ لگتا ہے۔ تاہم، تمام ممکنہ پہلوؤں پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق، رواں سال اب تک ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر 24 شہری اپنی جان گنوا چکے ہیں، جبکہ ماہ رمضان میں ہی 9 افراد کو ڈاکوؤں نے قتل کیا۔
شہر میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے، جبکہ پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے دعوے کر رہے ہیں۔