ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان
امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مثبت مذاکرات ہورہے ہیں اور امریکا 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال جاری ہے۔ تاہم ٹرمپ ایران کی تازہ ترین تجویز مسترد کرچکے ہیں اور جنگ کے خاتمے کے لیے کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے اثرات امریکی معیشت اور داخلی سیاست پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث امریکا میں پٹرول مہنگا ہوا ہے، جبکہ مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافہ ووٹرز کی اہم تشویش بن چکا ہے۔
رائٹرز اور اِپسوس کے ایک حالیہ سروے کے مطابق تقریباً 60 فیصد امریکی شہری ایران کے معاملے پر ٹرمپ کی پالیسی سے ناخوش ہیں، جن میں ہر چار ری پبلکن ووٹرز میں سے ایک بھی شامل ہے۔ جنگ کے باعث ٹرمپ کی مقبولیت پر دباؤ بڑھا ہے اور نومبر کے انتخابات میں ری پبلکن جماعت کو کانگریس میں اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔
ٹرمپ اس سے قبل بھی انتخابات کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی کی توقع ظاہر کرچکے ہیں، تاہم انہوں نے جنگ سے نکلنے کے لیے کوئی تفصیلی منصوبہ پیش نہیں کیا۔
دوسری جانب ایران نے جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنے مؤقف میں نرمی کے اشارے نہیں دیے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ملک کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ کے حوالے سے بتایا کہ تہران یورینیم کی افزودگی ترک کرنے یا اپنے ذخیرے کو حوالے کرنے پر آمادہ نہیں۔ اس سے چند روز قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا تھا کہ ایران کو اپنی یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں بامعنی کمی کرنا ہوگی۔
امریکا، اسرائیل اور ان کے مغربی اتحادی طویل عرصے سے ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں کا الزام عائد کرتے رہے ہیں، جبکہ تہران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
ادھر آبنائے ہرمز بھی امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کا اہم معاملہ بنی ہوئی ہے۔ یہ گزرگاہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس کی بندش یا آمدورفت میں رکاوٹ سے عالمی توانائی کی منڈی متاثر ہوسکتی ہے۔
ٹرمپ نے اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ رات آبنائے ہرمز سے ریکارڈ دو کروڑ بیس لاکھ بیرل تیل گزرا۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ رپورٹ میں موجود نہیں۔
امریکی صدر کے تازہ بیان سے ایران کے خلاف فوری حملے کے امکان کے بارے میں ان کا مؤقف واضح ہوا ہے، لیکن جنگ کے خاتمے، جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی صورت حال پر دونوں ممالک کے اختلافات تاحال برقرار ہیں۔ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کے بارے میں ابھی کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا۔