خود ساختہ بھارتی پادری کو خاتون سے زیادتی پر عمر قید کی سزا

0 minutes, 0 seconds Read

بھارت کے خودساختہ پادری بجندر سنگھ کو زیادتی کے کیس میں موہالی کورٹ کی جانب سے عمر قید کی سزا سنادی گئی ہے، جس کے بعد متاثرہ خاتون نے عدالت کا شکریہ ادا کیا ہے۔

خاتون نے منگل کو عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ’میں بہت خوش ہوں۔ میں جج صاحب اور اپنے وکیل کی شکر گزار ہوں۔ عدالت نے میرے ساتھ انصاف کیا ہے۔ میں اس کے لیے شکر گزار ہوں اور میڈیا کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں‘۔

’مردوں کی بربادی۔۔۔‘: شوہروں پر جعلی مقدمات کے درمیان جعلی زخم بنانے کی ترکیب وائرل

بجندر سنگھ کے خلاف کیس کی تفصیل

2018 میں، زیراکشور کی ایک خاتون نے بجندر سنگھ کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ پادری نے اسے بیرون ملک جانے میں مدد کرنے کا جھانسہ دے کر جنسی زیادتی کی۔ خاتون نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ اس نے اس کی ایک فحش ویڈیو بنائی اور دھمکی دی کہ وہ اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرے گا۔ بجندر سنگھ اس وقت ضمانت پر رہا تھا۔

بعدازاں، عدالت نے سوشل میڈیا پر مشہور پادری بجندر سنگھ کو پچھلے ہفتے تعزیراتِ ہند کی دفعات 376 (زیادتی)، 323 (جان بوجھ کر چوٹ پہنچانے کی سزا) اور 506 (فوجداری دھمکیاں) کے تحت مجرم قرار دیا گیا تھا۔

فیصلے سے قبل خاتون نے بجندر سنگھ کے لیے کم از کم 20 سال کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔ خاتون نے کہا تھا، ’میں چاہتی ہوں کہ اس کو کم از کم 20 سال کی قید ہو۔ اسے قانون کا بہت اچھا علم ہے اور یہ سب جرم وہ اپنی مرضی سے کرتا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ خواتین اس کے بارے میں کھل کر بات کریں اور اب ان کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے‘۔

آسمانی بجلی گرنے سے مفلوج ہونے والی خاتون کی آنکھوں کا رنگ بدل گیا

اس سے قبل، متاثرہ خاتون کے وکیل انیل ساگر نے اس فیصلے کی اہمیت پر بات کی اور کہا، ’وہ روحانی رہنما کے طور پر مشہور تھا۔ اس کے پیروکار اسے ”پاپا جی“ کہتے تھے۔ جب اس طرح کے جرم ایک ایسے شخص سے ہوں تو اس کو ایک مثال بنانے والی سزا دی جانی چاہیے۔ ہم اس فیصلے سے مطمئن ہیں کیونکہ اسے عمر بھر کی سزا سنائی گئی ہے۔ وہ اپنی آخری سانس تک جیل میں رہے گا۔‘

کیس کے دیگر پانچ ملزمان پادری جتندر، پادری اکبر، ستار علی، اور سندیپ پہلوان کو بری کر دیا گیا۔

Similar Posts