سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تخلیق کردہ گِبلی طرز کی تصاویر کا طوفان برپا ہے، جہاں صارفین اسٹوڈیو گِبلی کی اینیمیشن کے انداز میں حیرت انگیز اور خوابناک تصاویر شیئر کر رہے ہیں۔ اوپن اے آئی کے حالیہ چیٹ جی پی ٹی اپڈیٹ نے صارفین کے لیے یہ ممکن بنا دیا ہے کہ وہ معروف جاپانی ہدایت کار ہایاؤ میازاکی کے فلمی انداز میں تصاویر تخلیق کر سکیں۔ یہ رجحان نہ صرف فلمی مناظر بلکہ ذاتی فیملی فوٹوز کو بھی گِبلی اسٹائل میں ڈھال رہا ہے، جس سے ڈیجیٹل دنیا میں ایک نیا جوش و خروش پیدا ہو گیا ہے۔
تاہم، اس وائرل ٹرینڈ نے رازداری کے خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔
ڈیٹا سیکیورٹی کے ماہرین اب اس کے ممکنہ خطرات پر خبردار کر رہے ہیں اور صارفین سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ اے آئی امیج جنریشن ٹیکنالوجی استعمال کرتے وقت اپنے ذاتی ڈیٹا کی حفاظت کو مدنظر رکھیں۔
ڈیٹا پرائیویسی اور سیکیورٹی پر کام کرنے والے پلیٹ فارم ”پروٹون“ نے ایکس پر لکھا، ’ڈیٹا لیک ہونے کے خطرات ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔ ایک بار جب آپ اے آئی کے ساتھ اپنی ذاتی تصاویر شیئر کرتے ہیں، تو آپ اس پر کنٹرول کھو دیتے ہیں کہ یہ تصاویر کیسے استعمال ہوں گی۔ مثال کے طور پر، یہ مواد کسی کی کردار کشی یا ہراسانی کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔‘
پروٹون نے مزید خبردار کیا، ’یہ ایک تفریحی ٹرینڈ لگ سکتا ہے، لیکن ذرا غور کریں۔ بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر سیلفیز شیئر کرنے میں کوئی مسئلہ محسوس نہیں کرتے، لیکن ”گِبلی اسٹائل“ امیجز بنانے کے اس رجحان نے لوگوں کو اوپن اے آئی کے ساتھ اپنی اور اپنے خاندان کی تصاویر شیئر کرنے پر آمادہ کر دیا ہے۔‘
پلیٹ فارم کا کہنا تھا کہ ’اے آئی ماڈلز عام طور پر بڑے ڈیٹا سیٹس پر انحصار کرتے ہیں۔ بعض صورتوں میں، آپ کی تصویریں یا آپ کی مشابہت بغیر اجازت کے استعمال کی جا سکتی ہے۔‘
برطانوی فیوچرسٹ ایلے فیرل کنگسلے نے بھی متنبہ کیا کہ ’اے آئی ٹولز پر تصاویر یا خیالات اپ لوڈ کرنے سے میٹا ڈیٹا، لوکیشن اور حساس معلومات افشا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، خاص طور پر بچوں کے لیے۔ اگر کوئی سروس مفت ہے، تو سمجھ لیں کہ آپ اور آپ کا ڈیٹا ہی قیمت ہیں۔ اگر آپ کو یہ منظور ہے، تو ٹھیک، مگر آگاہ رہنا ضروری ہے۔‘
بہت سے ڈیجیٹل پرائیویسی ایکٹیوسٹس نے بھی اوپن اے آئی کے گِبلی اسٹائل اے آئی آرٹ جنریٹر پر خدشات ظاہر کیے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ صارفین کی ذاتی تصاویر کا استعمال کرکے اے آئی ماڈلز کو ٹرین کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ اپنی تصاویر کے استعمال پر کنٹرول کھو سکتے ہیں۔