خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی اور دیگر علاقوں میں گورنر راج لگے گا؛ صدر اور وزیرِ اعظم میں اتفاق
اسلام آباد میں صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں خیبر پختونخوا کی سیاسی اور امن و امان کی مجموعی صورت حال پر غور کے بعد صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ اور باقی حصوں میں گورنر راج قائم کرنے کی تجاویز پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔
ایوانِ صدر میں ہونے والی اس اہم بیٹھک میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی، اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں شیری رحمان اور نوید قمر سمیت دیگر اعلیٰ سیاسی اور انتظامی حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد صدر مملکت اور وزیراعظم کے درمیان علیحدہ ملاقات بھی ہوئی جس میں صوبائی صورت حال سے نمٹنے کے لیے آئینی و انتظامی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق، اس نئی پیشرفت کے بعد وفاقی کابینہ کا اجلاس اتوار کو طلب کر لیا گیا ہے، جس میں خیبر پختونخوا کے مخصوص اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی رسمی منظوری لیے جانے کا امکان ہے۔
جن اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجاویز زیرِ غور ہیں ان میں کرم، اپر وزیرستان، لوئر وزیرستان، شمالی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں۔
آئین کے تحت اس ایمرجنسی اور متعلقہ سیکیورٹی اقدامات کی توثیق کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ یا الگ اجلاس منگل کے روز طلب کر لیا گیا ہے۔
دوسری جانب، ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کو کم کرنے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان معطل شدہ مذاکرات کی بحالی کے لیے سیاسی سطح پر تحرک تیز ہو گیا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات کی ہے، جس میں انہوں نے سیاسی معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے اور اپوزیشن کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت دینے پر زور دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ نہ کرنے کی یقین دہانی بھی مانگی ہے تاکہ سیاسی راستہ بند نہ ہو۔
وزیراعظم سے گفتگو کے بعد مولانا فضل الرحمان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مرکزی قیادت سے بھی رابطہ کیا ہے اور انہیں حکومتی مؤقف کے ساتھ ساتھ وزیراعظم سے ہونے والی گفتگو کی تفصیلا ت سے آگاہ کیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ دونوں فریقین کے درمیان تناؤ ختم کرنے اور مذاکرات کا باقاعدہ عمل شروع کرنے کے لیے مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان جلد ایک براہِ راست ملاقات کا بھی امکان ہے، جس کے بعد صوبائی صورت حال کے مستقبل کا حتمی منظرنامہ واضح ہونے کی توقع ہے۔