کیا نوبیل انسٹی ٹیوٹ نے انعام کیلئے عمران خان کی نامزدگی مسترد کردی؟

0 minutes, 0 seconds Read

ناروے کے نوبیل انسٹی ٹیوٹ کے ایک ڈائریکٹر نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی نوبیل انعام کیلئے نامزدگی کے معاملے اپنا ردعمل دیا ہے۔

انہوں نے عمران خان کو مبینہ طور پر نوبیل انعام کیلئے نامزد کرنے والی نارویجن سیاسی جماعت پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ جماعت اپنے سیاسی فائدے کیلئے انعام کو متنازع بنا رہی ہے۔

ناروے کی سینٹر پارٹی نے عمران خان کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی بات کی تھی۔ نارویجن ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوری میں ایک لائیو سٹریم کی دوران سینٹر پارٹی کے رہنما گائیر لپسٹاڈ نے کہا تھا کہ ناروے سب سے بڑا کام یہ کر سکتا ہے کہ عمران خان کو امن انعام کے لیے نامزد کیا جائے، یہ نامزدگی سٹورٹنگ Storting (نارویجن قانون ساز ایوان) کے اراکین کرتے ہیں اور ہم انہیں آگاہ کرنے کی کوشش کریں گے یا پھر عوام الیکشن میں ہماری حمایت کریں تاکہ ہم ایواں میں جا کر عمران خان کو امن انعام کے لیے نامزد کر سکیں۔

نارویجن اخبار ’این آر کے‘ کے مطابق اب نوبیل انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر کرسٹیان برگ ہارپ ویکن نے اس معاملے پر رد عمل ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے اپنے ایک مضمون میں کہا کہ گائر سٹورٹنگ میں نشست حاصل کرنے کی شدت سے تمنا رکھتے ہیں اور اسی لیے وہ پاکستانی نارویجن کمیونٹی کے زیادہ سے زیادہ ووٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی نارویجن سیاستدان نوبل انعام کو اس طرح اپنے لیے استعمال کر رہا ہے۔

نوبل انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ اس کے کئی نتائج ہوں گے، یہ غلط تاثر قائم ہوگا کہ کوئی نارویجن سیاستدان نوبیل امن انعام کی نامزدگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے، انعام دینے کے پورے عمل پر شکوک و شبہات پیدا ہو جائیں گے، انعام کے لیے نامزد شخص اور انہیں نامزد کرنے والے دونوں کے لیے سیکیورٹی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

نوبل انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر نے کہا کہ ماضی میں سٹورٹنگ کے رکن نامزدگی کے حوالے سے بات کرتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ خاص بات یہ ہے کہ ایک ایسا شخص نامزدگی کی بات کر رہا ہے جو اس ایوان میں موجود نہیں لیکن یہاں بیٹھنا چاہتا ہے۔

دوسری جانب گائیر لپسٹاڈ کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی نارویجن سیاستدان انعام کے لیے نامزدگی کے معاملے پر بات کرتے رہے ہیں، اس میں کوئی انوکھی بات نہیں اور یہ کہ انعام کسے ملنا چاہیے اس بارے میں بات کرنے سے انعام کی وقعت میں اضافہ ہوگا۔

نوبیل انعام پر حالیہ بحث کیوں

اگرچہ ناروے کی سینٹر پارٹی نے عمران خان کو نامزد کرنے کا وعدہ جنوری میں کیا تھا تاہم اس معاملے پر بحث حالیہ دنوں شروع ہوئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چند روز قبل سینٹر پارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ عمران خان کو اب نوبل انعام کے لیے نامزد ہو جانا ’چاہیے‘ اور یہ کہ نامزد کرنے والوں میں سے کسی کے ساتھ تعاون کے ذریعے انہوں نے عمران خان کو نامزد کر دیا ہے۔

سینٹر پارٹی کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بعض یہ دعوے کیے گئے کہ عمران خان کو نوبل انعام کے لیے نامزد کر دیا گیا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ نے بھی بدھ کے روز اس طرح کی خبریں شائع کی۔

تاہم نارویجن ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سینٹر پارٹی کے پاس کسی کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرنے کا اختیار نہیں۔

نوبل انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر کے رد عمل کے بعد سوشل میڈیا پر اب یہ خبریں گردش میں ہیں کہ نوبل انسٹیٹیوٹ نے عمران خان کی نامزدگی مسترد کر دی ہے۔

واضح رہے کہ نوبیل انعامات کے نامزدگی کا فیصلہ نوبیل کمیٹی کرتی ہے جس کی تمام معاملات رازداری میں رکھے جاتے ہیں۔

Similar Posts