کرپشن پر زیرو ٹالیرنس، امن و امان پہلی ترجیح: خیبر پختونخوا کا انتظام سنبھالنے والی کونسل کا پہلا اجلاس

خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے انتظامی امور سنبھالنے کے لیے قائم کی گئی 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کا پہلا اجلاس گورنر فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ جس میں فیصلہ کیا گیا کہ کرپشن پر زیرو ٹالیرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور امن و امان پہلی ترجیح ہوگی۔

اتوار کو صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کی بھیجی گئی سمری پر دستخط اور وفاقی کابینہ کی توثیق کے بعد صوبائی حکومت، وزرا، مشیران اور ایڈوکیٹ جنرل کو غیر فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ صوبے میں امن و امان کی بحالی اور انتظامی شفافیت کے لیے نئی نگران حکمت عملی پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے ایڈوائزری کونسل کے افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اراکین کو خوش آمدید کہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کو امن کا گہوارہ بنانا اور امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی ترقی و خوشحالی کے لیے تمام اراکین کو مل کر کام کرنا ہوگا، جبکہ تعلیم، صحت اور انصاف سمیت تمام شعبوں میں شفافیت لائی جائے گی اور کرپشن کے حوالے سے زیرو ٹالیرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے گا اور صوبے میں سیاحت کے شعبے کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

دوسری جانب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ان اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے کے انتظامی امور چلانے کے لیے تمام متعلقہ شعبوں کے ماہرین پر مشتمل 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی ہے۔

وفاقی وزرا کے مطابق، اس کونسل میں داخلہ امور کی ذمہ داری کفایت اللہ خان، معیشت کے معاملات طارق محمود پاشا، قانون کے امور عامر جاوید، تعلیم ڈاکٹر سید عامر عبداللہ، اور صحت کے امور کی دیکھ بھال لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نگار جوہر خان کے سپرد کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ مائنز اینڈ منرلز ڈاکٹر سرفراز علی شاہ، انڈسٹریز اینڈ کامرس ڈاکٹر محمد ارشاد، کمیونیکیشن اینڈ ورکس آصف رفیق آفریدی، مذہبی امور طیب قریشی، توانائی کے معاملات عثمان سیف اللہ خان، جبکہ اطلاعات و نشریات کے امور ثمر ہارون دیکھیں گی۔

وفاقی وزرا نے مزید بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت وفاقی حکومت نے نئی نگران کونسل کی معاونت کے لیے افواجِ پاکستان کو تعینات کرنے کا حکم نامہ بھی جاری کر دیا ہے۔

ایک اور ضمنی آرڈر کے تحت خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع کے لیے، جو شدید بدامنی اور سیکیورٹی چیلنجز سے متاثر ہیں، گورنر اور چیف سیکریٹری کی زیرِ نگرانی ایک الگ سیکریٹریٹ قائم کر دیا گیا ہے۔

یہ سیکریٹریٹ ان اضلاع کے امور کو براہِ راست دیکھے گا اور وفاقی حکومت کو صورت حال سے باخبر رکھے گا۔

ان اضلاع کی ترقی، تعمیرِ نو اور بحالی کے لیے ایک خصوصی کونسل بھی تجویز کی گئی ہے، جس کی سربراہی ایڈیشنل سیکریٹری سطح کے افسر انجام دیں گے۔

Related posts