امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوابی ٹیرف سے ایک غیر آباد جزیرہ بھی محفوظ نہ رہا جہاں ایک دہائی میں کسی انسان نے قدم نہیں رکھا۔
انٹارکٹیکا کے قریب دور دراز غیر آباد آسٹریلوی جزیرے پر محصولات عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹارکٹیکا کے قریب ترین جزیرے جہاں صرف گلیشیئرز اور پینگوئن رہتے ہیں کو بھی مین لینڈ آسٹریلیا کے ساتھ ٹرمپ کے 10 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔
رپورٹ کے مطابق ہرڈ آئی لینڈ نامی آئی لینڈ دنیا کے سب سے الگ تھلگ جگہوں میں شمار ہوتا ہے۔ جزائر تک پہنچنے کے لیے پرتھ سے کشتی کا دو ہفتے کا مشکل سفر درکار ہوتا ہے تقریباً ایک دہائی میں کسی انسان نے وہاں قدم نہیں رکھا۔
ٹرمپ کے ٹیرف لگانے کے اقدام نے آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیس کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ زمین پر کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں رہی ہے۔
’امریکی عوام بھاری قیمت چکائیں گے۔۔۔‘: ٹرمپ کے ٹیرف وار پر متاثرہ ممالک کا ردعمل
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے عائد کردہ امریکی محصولات پر تنقید کرتے ہوئے انہیں غیر منطقی اور غیر دوستانہ قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ محصولات دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری سے متصادم ہیں۔ البانی نے یہ بھی کہا ہے کہ آسٹریلیا امریکہ کے خلاف اپنے محصولات کے ساتھ جوابی کارروائی نہیں کرے گا، بجائے اس کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے آسٹریلیائی ساختہ مصنوعات کی خریداری کو فروغ دے گا۔
ہرڈ آئی لینڈ، آسٹریلیا کا حصہ، ایک دور دراز اور ناہموار مقام ہے۔ سرد موسم کے باعث مغربی آسٹریلیا سے جہاز کے ذریعے وہاں پہنچنے میں تقریباً 10 دن لگتے ہیں۔ یہ جزیرہ پینگوئن، سیلز اور پرندوں کی بہت سی اقسام کا گھر ہے، جن میں سے کچھ کو ان کے تحفظ کی حیثیت کی وجہ سے قومی اور بین الاقوامی قوانین کے ذریعے تحفظ حاصل ہے۔
امریکا کا دشمن ’روس‘ امریکی ٹیرف سے محفوظ کیوں رہا؟
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستان سمیت درجنوں ممالک پر کئی سالوں سے غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کا حوالہ دیتے ہوئے دو طرفہ محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ٹیرف تمام بیرونی ممالک پر بیس لائن 10% ٹیرف کے ساتھ اثر ڈالیں گے، جبکہ کچھ کو نمایاں طور پر زیادہ شرحوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔