‘اسرائیل کی رکنیت معطل کی جائے’: سیکڑوں ڈاکٹروں کا ورلڈ میڈیکل ایسوسی ایشن سے مطالبہ
نیدرلینڈز میں سیکڑوں ڈاکٹروں اور طبی کارکنوں نے اسرائیلی میڈیکل ایسوسی ایشن کو عالمی طبی تنظیم سے معطل کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ احتجاج کرنے والوں نے غزہ میں فلسطینی طبی کارکنوں کی ہلاکتوں، گرفتاریوں اور اسپتالوں کی تباہی پر اسرائیلی طبی تنظیم کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق نیدرلینڈز کے شہر روٹرڈیم میں عالمی طبی تنظیم (ڈبلیو ایم اے) کے اجلاس کے باہر ہفتے کے روز احتجاج کیا گیا، جس میں 81 طبی کارکنوں نے اپنے طبی لباس اتار کر ایک قطار میں لٹکا دیے۔ ہر لباس پر ایک ایسے فلسطینی طبی کارکن کا نام درج تھا جو اس وقت اسرائیل کی حراست میں ہے۔
احتجاج کا اہتمام کرنے والی مہم ’آئی ایم اے آؤٹ‘ کے مطابق اسرائیلی میڈیکل ایسوسی ایشن کو عالمی طبی تنظیم کی رکنیت سے معطل کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس کے بقول اسرائیلی تنظیم نے طبی اخلاقیات کے تقریباً تمام اصولوں کی خلاف ورزی کے باوجود اپنی رکنیت برقرار رکھی ہوئی ہے۔
آئی ایم اے آؤٹ ایک عالمی احتجاجی مہم ہے، جس کی قیادت طبی کارکن اور مختلف تنظیمیں کر رہی ہیں۔ اس مہم کا مطالبہ ہے کہ عالمی طبی تنظیم اسرائیلی میڈیکل ایسوسی ایشن کی رکنیت معطل کرے۔
مہم کی رکن اور جنرل پریکٹیشنر میجرم احمدتاج نے کہا کہ یہ طبی لباس خالی نہیں ہونے چاہییں، ہمارے ساتھیوں کو اپنے مریضوں کے ساتھ ہونا چاہیے، اسرائیلی جیلوں میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے ذریعے ان فلسطینی طبی کارکنوں کے نام عالمی طبی تنظیم کے دروازے تک پہنچائے گئے ہیں۔
مہم کے مطابق اکتوبر 2023 سے غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے دوران 1700 سے زائد فلسطینی طبی کارکن شہید ہو چکے ہیں، جبکہ علاقے کے تقریباً تمام اسپتالوں اور طبی مراکز کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
احتجاج کرنے والوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی میڈیکل ایسوسی ایشن فلسطینیوں کی طبی سہولتوں کی منظم تباہی پر خاموش رہی ہے۔
میجرم احمدتاج نے کہا کہ اسرائیلی تنظیم محض خاموش تماشائی نہیں بلکہ ان حملوں کا دفاع کرتی ہے اور ان کی عالمی سطح پر مذمت کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ان کے مطابق یہ طبی شعبے کی غیر جانب داری نہیں بلکہ ان اقدامات میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔
مہم کے بیان کے مطابق جمعرات کو عالمی طبی تنظیم کے اجلاس کے موقع پر بین الاقوامی ڈاکٹروں، طبی شعبے کے رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے فلسطینی طبی نظام کی تباہی اور عالمی طبی برادری کی ذمہ داری پر بھی گفتگو کی۔
آئی ایم اے آؤٹ کی جانب سے جوناتھن فلوکسمین نے کہا کہ فلسطینی طبی کارکنوں کو قتل کیا جا رہا ہے اور انہیں قید کیا جا رہا ہے، جہاں انہیں بھوکا رکھنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کے الزامات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے اسپتال تباہ کیے گئے، جبکہ مریضوں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا گیا یا انہیں قتل کیا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیلی میڈیکل ایسوسی ایشن نے طبی کارکنوں، مریضوں اور اسپتالوں کے خلاف مبینہ جنگی جرائم پر نہ تو مؤثر آواز اٹھائی اور نہ ہی کوئی مناسب اقدام کیا۔
جوناتھن فلوکسمین نے کہا کہ عالمی طبی تنظیم اور اسرائیلی میڈیکل ایسوسی ایشن کے درمیان 30 سال سے جاری بات چیت سے کوئی مؤثر نتیجہ نہیں نکلا۔ انہوں نے قومی طبی تنظیموں اور عالمی طبی تنظیم پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی تنظیم سے تعلقات ختم کریں اور اس کی رکنیت فوری طور پر معطل کریں۔