سینیئر تجزیہ کار جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے سوا پی ٹی آئی کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے، اگر مولانا فضل الرحمان عمران خان کی طرف داری نہیں کرتے، پی ٹی آئی کچھ نہیں کر سکے گی۔ پی ٹی آئی کے پاس ایک آپشن ہے لیکن مولانا فضل الرحمان اپنے ہاتھ کاٹ کر تحریک انصاف کو نہیں دیں گے۔ اسٹیبلشمنٹ ایک بڑی مشین ہوتی ہے یہ کسی ایک بندے کا نام نہیں ہے، ایک مشینری کا نام ہوتا ہے، اور مشینری میں کوئی پرزہ خراب ہو جائے تو اس کی جگہ نیا پرزہ آ جاتا ہے۔
آج نیوز کے پروگرام روبرو میں میزبان شوکت پراچہ سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار و صصافی جاوید چوہدری نے کہا کہ تحریک انصاف، مولانا فضل الرحمان پر انحصار کر رہی ہے، ان کے نزدیک مولانا فضل الرحمان ہوں گے تو پاکستان تحریک انصاف کا احتجاج کامیاب ہوگا اور اگر مولانا فضل الرحمان عمران خان کی طرف داری نہیں کرتے، پی ٹی آئی کچھ نہیں کر سکے گی۔
جاوید چوہدری نے تجزیہ دیتے ہوئے کہا کہ اب عمران خان کی خواہش یہ تھی کہ عید کے دنوں کے دوران بھی احتجاج ہو اورعید کے بعد بھی، کیوں کہ انھوں نے کہ دیا کہ کچھ نہ کچھ سرگرمیاں کرنی ہیں، اب پارٹی ایک طرف مولانا فضل الرحمان کے ساتھ رابطے میں ہے تو دوسری طرف بھی اپنے طور پر کوشش کر رہی ہے، مولانا فضل الرحمان نے اپنی مجلس عمل ہے جس میں وہ فیصلہ کرتے ہیں جو 26 اپریل کو بلاوایا ہے، اب مولانا فضل الرحمان کی سنجیدگی کا اندازہ خود لگا لیں کہ عمران خان اپریل کے شروع میں سڑکیں گرم کرنا چاہتے ہیں اور مولانا صاحب نے اس اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ کرنے کے لیے اپریل کے آخر میں اجلاس بلات ہیں۔
سینئر تجزیہ کار نے پی ٹی آئی کے لائحہ عمل کے سوال پر جواب دیا کہ اے پی سی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب کوئی بڑی پارٹی ان کے ساتھ نہیں بیٹھتی، پی ٹی آئی کے ساتھ پیپلز پارٹی یا ن لیگ بیٹھتی ہے یا ایم کیو ایم یا پھر مولانا فضل الرحمان خود بیٹھ جاتے ہیں تو پھر تو کہا جا سکتا ہے کہ اے پی سی ہوگی اور کامیابی کے چانسز ہوں گے۔
اس سے قبل بھی تحریک انصاف نے آل پارٹیز کانفرنس اسلام آباد میں کی تھی اور اس میں مولانا فضل الرحمان صاحب شریک نہیں ہوئے تھے۔ وہ اچانک عمرے پر چلے گئے اور وہاں سے قطر چلے گئے انھوں نے اپنا ایک وفد بھیجا تھا لیکن اس نے اس اے پی سی کے اعلامیے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا، انھوں نے کہا کہ ہمیں تحفظات ہیں اس اے پی سی کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اب آپ اگر کراچی، کوئٹہ کر لیں لیکن اگر اس میں کوئی بڑی پارٹی شامل نہیں ہوتی اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اگر ایسی پارٹیاں جن کی پارلیمنٹ میں نمائندگی نہیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
عمران خان کے اقتدار سے نکلنے اور خطرناک ہونے کے سوال کے جواب میں جاوید چوہدری نے کہا کہ ہیجان انگیزی ہوسکتی ہے لیکن اب ہر چیز سیٹل ہو چکی ہے، اسٹیبلشمنٹ ایک بڑی مشین ہوتی ہے یہ کسی ایک بندے کا نام نہیں ہے، ایک مشینری کا نام ہوتا ہے، اور مشینری میں کوئی پرزہ خراب ہو جائے تو اس کی جگہ نیا پرزہ آ جاتا ہے اور اس مشینری کو چلانے کے لیے ایک مشین مین ہوتا ہے، وہ ریٹائر ہو جائے یا چلا جائے۔ مشین اپنی جگہ باقی رہتی ہے، اس کے پاس بہت زیادہ افرادی قوت اور بہت زیادہ بجٹ بھی ہوتا ہے، انھوں نے بہت سارے لوگ عمران خان پر وقف کر دیے ہیں اور وہ اپنا کام کرتے جا رہے ہیں۔
جاوید چوہدری نے کہا کہ باقی جو ریاست ہے وہ اپنا کام کر رہی ہے، اکانومی اسٹیبل کر لی اور آئی ایم ایف کو انھوں نے راضی کر لیا جیسے تیسے بھی اور پاکستان میں استحکام بھی آ گیا اور مہنگائی بھی کم ہو گئی۔ یہ ساری چیزیں ہیں جس کوہمیں ماننا پڑے گا، تو اسٹیبلشمنٹ کا 99 فیصد حصہ ہے وہ یہ کام کر رہا ہے۔ اور جو ایک فیصد ہے وہ انھوں نے عمران خان پر وقف کیا ہوا ہے جس نے عمران خان کو اور پی ٹی آئی کو کنٹرول کرنا ہے۔
سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ آل از ویل ہے، رائے مختلف ہو سکتی ہے، آپ 2021، 2022، 2023 اور 2024 کی صورتحال کو 2025 میں رکھ کر دیکھ لیں اور آپ کو مختلف نظر آئے گا۔ سڑکیں ساری کھلی ہوئی ہیں، پہلے سڑکیں بند ہوتی تھیں کئی کئی ماہ لیکن اب کوئی یلغار نہیں ہو رہی، آپ کو 10 سے 15 ہزار پولیس بلانی پڑتی تھی اور 50 کروڑ کی شیلنگ ہو جاتی تھی تو اس سے نکل آئے، اکانومی میں ڈاؤن تھی۔
مارچ کے سوال پر انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اب مارچ کا نہیں کہہ سکتی، 26 نومبر کو جو ریاست نے کیا اسے بھی اندازہ ہو گیا کہ ان کا علاج کیا ہے، اب دوسری پارٹی کو بھی معلوم ہو چکا ہے لہاذا ان کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی۔ 26 نومبر کے بعد کوئی ایک احتجاج مجھے بتائیں جو ہوا ہو اور کامیاب ہوا ہو۔ پی ٹی آئی کے بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ جیل کے سامنے احتجاج کر لیا جائے، ان کو بھی معلوم ہوچکا ہے کہ یہ علاج بہت خوفناک کرتے ہیں، اس کے بعد کسی نے رخ نہیں کیا۔
میرا خیال ہے کہ ایڈجسٹ منٹ ہو چکی ہے، عمران خان جیل میں سکون میں ہیں، دیسی گھی اور دیسی مرغے کھا رہے ہیں۔ پیسے ہونے کے باوجود جیل میں ہر کسی کو سہولتیں میسر نہیں ہوتیں، لوگوں کو جیل کی دال بھی کھانی پرتی ہے، چونکہ عمران خان سابق وزیراعظم ہیں تو جیل کا ایک مینوئیل ہے، اس کے مطابق سب ہو رہا ہے حالانکہ بہت کھرب پتی قیدی بھی جیل میں ہیں لیکن انھیں وہی دال کھانی پڑتی ہے۔ پی ٹی آئی سے کوئی مسئلہ نہیں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو، شاہ محمود قریشی کی شکل میں مجھے لگتا ہے کہ فارورڈ بلاک بنے۔
آج نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شیر افضل مروت کو پارٹی نے نکال دیا ہے، پی ٹی آئی انھیں نہیں مانتی، عمران خان ساتھ نہیں ہے تو کراؤڈ کہاں سے لے آئے گا، باقی کوئی بھی شور کر لے وزن پیدا ہو جاتا ہے، میری اطلاع کے مطابق فارورڈ بلاک کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کوئی ایفرٹ نہیں کر رہی انھیں کوئی فائدہ نہیں اس سے، جب سارے معاملات کنٹرول میں ہیں تو کیا ضرورت ہے کہ ایک نیا پھڈا کرنے کے لیے۔ عمران خان نے خود پارٹی کو تقسیم کیا، انھوں نے جنید اکبر کو اختیار دیا ہے اب پارٹی گنڈا پور کے ہاتھ میں نہیں اور جو اختیارات اور پیسا ہے وہ گنڈا پور کے پاس ہے اور دونوں ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔
جاوید چوہدری کا کہنا تھا کہ عمران خان صاحب کی ایک موو سے خیبر پختون خوا دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تو اسٹیبلشمنٹ کو مزید کیا ضرورت ہوگی، اب دوسرا یہ ہے کہ کے پی کو سینٹرل سے تحفظات ہیں وہ ان کو نہیں مانتی، وہ گوہر خان، سلمان اکرام راجہ اور نہ وقاص شیخ کو مانتے ہیں، یہ سب ایک دوسرے کو نہیں مانتے، جیسے جنید اکبر نے اعلان کیا تھا کہ عید کے تین دن اڈیالہ جیل کے سامنے احتجاج کریں گے تو سئینٹرل پارٹی نے کہا کہ آپ کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے، یہ فیصلہ تو ہم نے کرنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کس بندے کی جیل میں ملاقات ہوگی اور کس کی نہیں ہوگی، اب باقی سارے لوگ حیران ہیں پریشان ہیں وہ اس چیز کو نہیں مان رہے، جب یہ چیزیں پہلے سے موجود ہیں تو کیا ضرورت ہے کہ پارٹی کو توڑا جائے۔ اس سے تو بہت سے لوگوں کی سیاست ختم ہو جائے گی۔ بہت سارے لوگ ہیں جن کے پیچھے میڈیا نہیں جاتا، جو بھی اندر سے باہر آتا تھا میڈیا وہاں پر کھڑا ہوتا تھا۔ بابر اعوان کی لڑائی چیمبرز وار ہے سیاسی لڑائی نہیں ہے، اگلے ہفتے کی لسٹ میں نام تھا کیوں کہ وہ سینئر وکیل تھے وہ چلے گئے انھیں جیل حکام نے جانے دیا۔
جاوید چوہدری نے پروگرام میں تجزیہ دیتے ہوئے کہا کہ صورت حال بہت دلچسپ ہے، پنجاب میں ان کی پارٹی موجود نہیں، وہاں کوئی بندہ نہیں نکلتا۔ یہ کون سا انقلاب ہے کہ اجازت دی جائے، انقلاب میں تو آپ دیواریں توڑ کے باہر نکلنا ہوتا ہے۔ کاش عمران خان نے آئین کو مانا ہوتا اور آئین کے اختیارات آئین کو دیے ہوتے تو آج یہ صورت حال نہ ہوتی۔ خود تو آئین کو روندتے رہے۔ مورچے بنائے ہوئے تھے۔ فوج کو حکم دے دیا تھا کہ گولی چلا دیں وہ تو جنرل باجوہ صاحب نے سوچا کہ اگر گولی کا آرڈر دے دیا تو یہاں تو 3 سو بندہ مر جائے گا اور لاشیں ہمارے گلے پڑ جائیں گی، عمران خان صاحب نے باقاعدہ قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا۔
انھوں نے مزید گفتگو کرتے ہوئے پروگرام میں کہا کہ خان صاحب کی رہائی اس صورت حال میں تو ممکن نہیں ہو سکتی جب اس ٹائپ کے لیڈر پھنستے ہیں اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے یا وہ کسی قانون کے شکنجے میں آ جاتے ہیں یا جرم سرزرد ہوتا ہے تو انھیں سزا ہو جاتی ہے، وہاں سے نکلنے کے 3 طریقے ہوتے ہیں جو پوری دنیا میں ہیں۔ ایک تو باہر کی طاقت ان کی دوست ہو وہاں آگے بڑھے، دوسرا یہ ہوتا ہے کہ فیملی کے کلوز لوگ ہوتے ہیں ان کا اس میں بنیادی کردار ہو سکتا ہے۔
جاوید چوہدری نے مزید کہا کہ جب میاں نواز شریف کو چھڑاوایا گیا تھا بیگم کلثظوم نواز درمیان میں تھیں یا انقلاب ایسا آ جائے جیسے خمینی کے لیے آ گیا تھا۔ پی ٹی آئی پارٹی عوام کو نکالنے میں ناکام ہو چکی ہے، بلکہ پارٹی اپنے آپ کو نکالنے میں ناکام ہوئی، جتنے احتجاج ہوئے سب گنڈا پور کی وجہ سے ہوئے اسے داد دینی پڑے گی۔ جب وہ پیچھے ہٹے تو جیسے تیسے بھی ختم ہو گیا۔ باہر سے کوئی بندہ نہیں آ رہا، فیملی میں کوئی ایسا بندہ نہیں ہے جو ڈیل کرسکے، پارٹی میں ڈیل کر نہیں سکتی۔
جاوید چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس ایک آپشن ہے لیکن مولانا فضل الرحمان اپنے ہاتھ کاٹ کر تحریک انصاف کو نہیں دیں گے۔ جب گوہر خان کی آرمی چیف جنرل عاصم منیر صاحب سے ملاقات ہوئی پشاور میں تو کیا انھوں نے مولانا فضل الرحمان کو اعتماد میں لیا تھا؟ جب حکومت سے مذاکرات ہو رہے تھے، عمران خان نے اپنے لوگوں کے نام دے دیے، کیا مولانا فضل الرحمان سے انھوں نے پوچھا تھا ابھی جو پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں نام دیے تو وہاں مولانا فضل الرحمان اسمبلی پہنچ گئے، یہ لوگ آئے نہیں، اس پر انھوں نے احتجاج بھی کیا تھا مصطفٰی نواز کھوکھر کے گھر پر افطاری کے دوران، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آپ لوگ بے اعتبارے ہیں، میں وہاں انتظار کرتا رہا اور آپ کے لوگوں نے فون کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ جب یہ صورت حال تو مولانا فضل الرحمان کو ان پر اعتماد کریں گے؟ مولانا بھی نہیں چاہیں گے کہ علی امین گنڈا پور چیف منسٹر رہیں جو پی ٹی آئی نہیں بدلے گی، ایک قائم مقام حکومت بن جائے گی خیبر پختون خوا میں۔ عمران خان کے پاس آپشن یہی ہے کہ میاں شہباز شریف آرمی چیف سے لڑ پڑیں، اسٹیبلشمنٹ کو میاں شہباز شریف سے بہتر امیدوار کوئی نہیں مل سکتا، آپشن یہی ہے کہ انھیں چاہیے تھا کہ رمضان المبارک میں دعا کرتے، اب شہبازشریف بھی سمجھدار ہیں اور وہ کسی طرف بھی ایسا قدم نہیں اٹھا رہے کہ اختلافات ہوں۔