مودی سرکار کی ایک اور مسلم دشمنی، مسلم وقف املاک پر قبضے کے لیے نیا متنازع قانون متعارف کرادیا، مساجد اورقبرستانوں پرقبضے کے گھناؤنے منصوبے کے خلاف اسدالدین اویسی سمیت مسلمان رہنماؤں نے آوازاٹھادی، اقوام متحدہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔
بھارتی شہر حیدرآباد کے رکنِ پارلیمان اسد الدین اویسی نے بھارتی لوک سبھا سے منظوری کے لیے پیش ہونے والا متنازع وقف ترمیمی بل احتجاجاً پھاڑ دیا۔
اسد الدین اویسی نے کہا کہ بھارت میں 8,72,000 سے زائد وقف جائیدادیں موجود ہیں، وقف جائیدادوں کو حکومتی کنٹرول میں لینے کا مودی سرکار کا گھناؤنا منصوبہ ہے اور یہ قانون وقف املاک جائیداد چھیننے کے لیے بنایا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی لوک سبھا میں گزشتہ روز بحث و مباحثے کے بعد حکمراں جماعت بی جے پی کی جانب سے پیش کیا گیا متنازع وقف ترمیمی بل منظور کر لیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مودی حکومت نے گزشتہ روز وقف ترمیمی بل لوک سبھا میں پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد وقف املاک کے نظم و نسق کو خامیوں سے پاک کرنا ہے جبکہ حزبِ اختلاف اسے وقف املاک کو ہڑپنے کی حکومتی سازش قرار دے رہی ہے۔
بھارتی حزبِ اختلاف نے مذکورہ بل کے خلاف لوک سبھا میں شدید اختلافات کا اظہار کیا، اسد الدین اویسی نے پارلیمنٹ میں وقف بل کی مخالفت کی، انہوں نے کہا کہ یہ آرٹیکل 25 اور 26 کی خلاف ورزی ہے۔
اسد الدین اویسی کا کہنا تھا کہ وقف بل مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہے، بل پر بحث کے دوران اسد الدین اویسی نے کہا کہ اس کا مقصد مسلمانوں کی تذلیل کرنا ہے، اس کے بعد انہوں نے کہا کہ میں گاندھی کی طرح وقف بل کو پھاڑ دوں گا۔
اسد اویسی کا کہنا تھا کہ اگر آپ تاریخ پڑھیں تو جب افریقہ میں مہاتما گاندھی کے سامنے ایسا قانون پیش کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں اسے نہیں مانتا، انہوں نے اس قانون کو پھاڑ دیا تو میں گاندھی کی طرح اس قانون کو پھاڑ دوں گا، یہ غیر آئینی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی مندروں اور مساجد کے نام پر اس ملک میں تفرقہ پیدا کرنا چاہتی ہےم میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔
مسلم رہنمائوں نے کہا کہ قانون وقف املاک جائیداد چھیننے کے لیے بنایا گیا ہے اور ہندو مذہبی ٹرسٹس کو تحفظ دیا جارہا ہے،بنیادی حقوق کی پامالی پراقوام متحدہ فوری نوٹس لے۔