”دی ونڈ رائزز“ کا 4 سیکنڈ کا منظر جو 15 مہینوں میں تیار ہوا

0 minutes, 2 seconds Read

آج کل ’چیٹ جی پی ٹی‘ کی مدد سے ہر کوئی چند سکنڈز میں اپنی ’Ghibli‘ فوٹوز بنا رہا ہے جس میں کوئی محنت اور وقت نہیں لگتا۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں 2013 میں ’اینیمیٹڈ مووی‘ میں ایک 4 سیکنڈز کے سین کو بنانے میں 15 مہینے لگے تھے؟!

جاپانی اینیمیشن کے لیجنڈری ہدایتکار ہایاؤ میازاکی نے اپنی فلم ”دی ونڈ رائزز“ 2013 میں ایک ایسا منظر شامل کیا جو مکمل طور پر ہاتھ سے بنایا گیا تھا، کسی قسم کے CGI یا کمپیوٹر گرافکس کا استعمال نہیں کیا گیا!

نئے ’جی پی ٹی 4o‘ سے بنی گبلی اسٹائل میمز اتنی وائرل کیوں ہو رہی ہیں؟

اس شاندار سین کو حقیقت کا روپ دینے میں ایجی یاماموری کو پندرہ مہینے لگے

چونکہ اینیمیشن 24 فریم فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتی ہے، اس لیے انہیں مجموعی طور پر96 منفرد تصویریں بنانی پڑیں، یعنی تقریبا ایک ماہ میں صرف 6.4 تصاویر مکمل ہوئیں۔

اس منظر کو خاص بنانے کے لیے ہر کردار کو الگ شناخت دی گئی، ہر فرد کی اپنی الگ شخصیت، حرکات اور کہانی تھی، جو بھیڑ میں موجود ہونے کے باوجود نمایاں محسوس ہوتی تھی

ہر فریم کو ہاتھ سے ڈرائنگ کر کے واٹر کلر سے پینٹ کیا گیا، جس نے منظر میں ایک جادوئی حقیقت پسندی پیدا کر دی۔

واقعی ماضی میں اینیمیشن کا عمل کس قدر پیچیدہ اور وقت طلب تھا۔ ہر فریم کو مکمل کرنے میں مہینوں اور کبھی کبھار سالوں کا وقت لگتا تھا۔ یہ بات اور یہ محنت یقینا اس کام کی جمالیاتی اور تخلیقی قدر آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔

’گبلی‘ کے پاگل پن نے چیٹ جی پی ٹی ٹیم سے نیند چھین لی، بانی صارفین کے سامنے ہاتھ جوڑنے پر مجبور

آج، ہم ’چیٹ جی پی ٹی‘ اور دیگر جدید ٹولز کی مدد سے چند سکینڈز میں ان جیسے حیرت انگیز منظر تخلیق کر سکتے ہیں، اور یہ سب کچھ اتنی آسانی سے ہو رہا ہے کہ ہم اسے محنت کے بغیر حاصل کرتے ہیں۔ بس ایک کلک، اور ایک مکمل ’Ghibli‘ طرز کی تصویر ہمارے سامنے ہوتی ہے۔

Similar Posts